خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 604
خطابات شوری جلد دوم ۶۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء اس کا دوسروں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ایک عورت نے مجھے سُنایا کہ ایک جگہ جہیز کی نمائش کی گئی تو اس جگہ ایک لڑکی نے اپنی ماں سے کہا کہ تم مجھے کیا دو گی؟ لڑکیاں جب اپنی سہیلیوں کے جہیز وغیرہ کو دیکھتی ہیں تو پھر وہ بھی اپنے والدین سے ویسی ہی اشیاء لینا چاہتی ہیں اور اس طرح نمائش گویا جذبات کو صدمہ پہنچانے والی چیز بن جاتی ہے۔جو کچھ دیا جائے بکسوں میں بند کر کے دیا جائے۔ہمارے گھروں میں بھی یہی طریق ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ بکس جن کے حوالے کئے جائیں اُن کو دکھایا جائے کہ فلاں فلاں چیز ان میں موجود ہے بلکہ ہمارے گھروں میں تو یہ دستور ہے کہ ایک دن پہلے سامانِ جہیز لڑکے والوں کے گھر پہنچا دیتے ہیں تا دکھانے کا سوال ہی پیدا نہ ہو۔ہاں بھیجنے سے پہلے لڑکے والوں کو دکھا دینا چاہئے ور نہ چوری کا ڈر رہتا ہے۔یہ نمائش نہیں بلکہ رسید ہے۔ہمارے ملک میں یہ نمائش کی رسم بہت عام ہو گئی ہے بلکہ قادیان میں بھی ہے اس کا روکنا نہایت ضروری ہے۔عزیزم صلاح الدین صاحب نے یہ ترمیم پیش کی ہے کہ یہ حکم نہیں مشورہ ہے لیکن یہ انگریزی طریق ہے کہ جو بات حکم کی صورت اختیار کر جائے یا مثلاً تعزیرات کا حصہ بن جائے اُس کی خلاف ورزی پر سزا دی جاتی ہے مگر اسلام کے احکام کے دو حصے ہیں ایک وہ جن کی سزا ہے اور دوسرے وہ جن کی سزا نہیں۔بعض احکام کی خلاف ورزی کی سزا اس دنیا میں دی جاتی ہے اور بعض کی قیامت کے دن ملے گی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کو حکم دیا ہے أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُم " تو خلیفہ جس بات کا حکم دیتا ہے اُس کی نافرمانی کرنے والا ایسا ہی مجرم ہے جیسا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے والا۔اور اگر چہ اس کی کوئی سزا شریعت نے مقرر نہیں کی مگر مومنوں کے نزدیک خود نافرمانی اپنی ذات میں سزا ہے۔اور یہ احساس کہ خلیفہ کا حکم نہیں مانا گیا اپنی ذات میں ایک سزا ہے اور اصل سزا یہی ہے۔دوسری سزائیں تو مصلحتا دی جاتی ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ سلسلہ اور خلیفہ کی نافرمانی سے بڑھ کر اور کیا سزا ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ناراضگی خود بہت بڑی سزا ہے۔دوزخ کی سزا کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہے پس گواوامر کی نافرمانی کے لئے سزا مقرر نہیں مگر بہر حال وہ احکام ہی ہیں۔اس تجویز کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ شادی اور بیاہ کے موقع پر مہر کے سوا جو شریعت نے