خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 603
خطابات شوری جلد دوم ۶۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء ہیں اور یہی حالت رسوم کے متعلق ہے۔اسلام نے بعض باتیں کرنے کا حکم دیا ہے اور بعض سے منع کیا ہے مثلاً ولیمہ کا حکم اسلام نے دیا ہے مگر دوسری طرف اسراف سے منع کیا ہے اور ولیمہ کے وقت اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔بعض ممبروں نے اسمبلی میں یہ قانون بنوانے کی کوشش کی تھی کہ شادی بیاہ کے اخراجات مقرر کر دیئے جائیں کوئی شخص اُس سے زیادہ خرچ نہ کر سکے مگر یہ بھی بیہودگی ہے۔ایک شخص زیادہ خرچ کرنے کی طاقت رکھتا ہے اُس کے لئے جائز ہے دوسرا نہیں رکھتا اس کے لئے ناجائز ہے۔مجھے ایک دفعہ ایک شخص نے بڑی لمبی چوڑی چٹھی لکھی اور پہلے بڑی تمہید باندھی اور درخواست اُس کی صرف یہ تھی کہ مجھے ڈیڑھ دو روپے مل جائیں۔ہر شخص کی حالت جُدا ہوتی ہے ایسے بھی لوگ ہیں جو تین روپے بھی خرچ نہیں کر سکتے اور ایسے بھی ہیں جو تین ہزار کر سکتے ہیں اور ایسے کروڑ پتی بھی ہیں جو کئی لاکھ خرچ کر سکتے ہیں لیکن خواہ کوئی شخص زیادہ خرچ کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو اُس کے متعلق یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ آیا اس کے لئے زیادہ خرچ مناسب بھی ہے مثلاً وہ ایک بچہ پر بہت زیادہ خرچ کرتا ہے لیکن اس کے اور بچے بھی ہیں اسے اس بات کو مدنظر رکھنا چاہے کہ کیا وہ سب کے لئے اتنا اتنا خرچ کر سکتا ہے۔۔مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس بارہ میں ہماری جماعت میں زیادہ اسراف ہو رہا ہے ہم یہ جو قوانین بناتے ہیں یہ دائمی نہیں ہیں۔آئندہ نسل اگر چاہے تو ان کو بدل بھی سکتی ہے اس وقت ہم جو قوانین بناتے ہیں ان کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر ایک بدی آ رہی ہے اُسے روکنے کی کوشش کی جائے لیکن اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ایسے قوانین ہمیشہ وقتی بنائے جائیں۔ہم کوئی نئی شریعت بنانے کے مجاز نہیں ہیں۔یہ تو حق ہمیں ہے کہ عارضی طور پر کوئی پابندی لگا دیں مگر یہ نہیں کہ کوئی نئی شریعت بنا ئیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پانچ دس سال بعد وہی حد بندی پھر قائم کر دیں۔پس ہم کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتے کہ شادی بیاہ پر اتنی ہی رقم خرچ کی جائے یا ضرور اتنے ہی مہمان مدعو کئے جائیں۔ہاں نمائش اور ریاء سے روک سکتے ہیں اور اس پر پابندیاں لگا سکتے ہیں اور چونکہ کثرتِ آراء اس کے حق میں ہے اس لئے میں تجویز کو منظور کرتا ہوں۔جہیز کی نمائش نہ کی جائے نمائش اور ریاء سے ہمارے دوستوں کو ہمیشہ بچنا چاہئے