خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 602
خطابات شوری جلد دوم ۶۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء ایسی صورتیں ہیں کہ ہر حلال میں حرام کی اور ہر حرام میں حلال کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے اور جو چرواہا رکھ کے پاس جانور چرائے اس کے جانوروں کے رکھ میں گھس جانے کا احتمال ہوتا ہے اور ہوشیار چرواہا وہ ہے جو ر کھ سے فاصلہ پر جانوروں کو چرائے۔اسلام نے اصولی طور پر بعض چیزوں کے متعلق ہدایات دے دی ہیں اور پھر انسان کی عقل پر چھوڑ دیا ہے۔سو ر ، خون ، مُردار اور غیر اللہ کے چڑھاوے وغیرہ حرام قرار دیئے ہیں۔باقی کسی چیز کو حرام نہیں کیا اور ان اصول کی بناء پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کو حرام قرار دیا ہے لیکن جن چیزوں کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے ان کو بھی انسان ایسے وقت میں جب کہ اور کچھ اسے کھانے کو نہ ملے کھا سکتا ہے۔بلکہ بعض صوفیاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص بھوک سے مر رہا ہو اور اسے اس وقت کھانے کو سوائے سور کے گوشت کے کچھ نہ ملے تو ایسی حالت میں اگر وہ سو ر نہ کھائے تو سمجھا جائے گا کہ اُس نے اپنی جان کو ضائع کیا۔اسی طرح قرآن کریم نے پردہ کا حکم دیا ہے لیکن اگر کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہو اور وہ خطرہ کی حالت میں ہو، اچھی دائی نہ مل سکتی ہو تو اگر وہ ایسی حالت میں مرد سے بچہ جنوانے سے انکار کرے گی تو اگر وہ مرجائے تو سمجھا جائے گا کہ اس نے خود کشی وہ کی۔تو جب جان کا خطرہ ہو تو اسلامی حکم یہ ہے کہ حرام چیز کا استعمال بھی اُس وقت حلال ہو جاتا ہے۔پس اسلامی تعلیم میں جہاں بعض چیزوں کو حلال قرار دیا گیا ہے وہاں بھی بعض حد بندیاں لگائی ہیں اور جہاں بعض چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہاں بھی حد بندی قائم کی ہے۔اسی طرح سچ بولنے کا اسلام میں حکم ہے مگر غیبت کرنے کی ممانعت ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ منافق تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بات تو درست ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے مگر منافق جھوٹ بولتے ہیں لے گویا کچی بات منافقت سے کہی جائے تو وہ بھی گناہ ہے۔ولیمہ کے بارہ میں اسلامی تعلیم پس اسلام نے حلال وحرام دونوں حالتوں میں عقل سے کام لینے کا حکم دیا ہے اور بعض اصول مقرر کر دیئے