خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 598

خطابات شوری جلد دوم ۵۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء تقریر کا اثر دو میں نے کئی بار خطبات میں بھی اور مبلغین کے اجلاسوں میں بھی اس کی طرف توجہ دلائی ہے مگر پھر بھی اس پر عمل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو طاقتیں دی ہیں ان کو ۲۴ گھنٹہ تک کوئی مبلغ بھی تبلیغ پر صرف نہیں کر سکتا۔عیسائی مشنری تو ہفتہ میں صرف ایک بار تقریر کرتے ہیں اور وہ بھی آہستہ آہستہ اور صرف ۲۰ منٹ یا آدھ گھنٹہ تک۔پھر بھی ڈاکٹری کتب میں مستقل بیماری Clergyman's Sore Throat کہلاتی ہے گویا وہ سمجھتے ہیں کہ ہفتہ میں ایک بار آہستہ آہستہ بولنے سے بھی گلا خراب ہو جاتا ہے۔کام کی اوسط ۶، ۷ گھنٹہ روزانہ ہے اور اتنا عرصہ ہر روز کون بول سکتا ہے اور اگر کوئی روز اتنا بولے تو یا پاگل ہو جائے گا یا اسے سہل ہو جائے گی۔بولنے کا اثر انسان کے اعصاب پر بہت بُرا پڑتا ہے اس لئے ناممکن ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا مبلغ مل سکے جو سارا وقت خالص تبلیغ کر سکے اگر کوئی ایسا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔اسی وجہ سے انبیاء جہاں مبلغ ہوتے ہیں وہاں معلم اور مربی بھی ہوتے ہیں۔اور یہ سب کام ان کے سپر د ہوتے ہیں اور وہ یہ مختلف کام کرتے ہیں۔خالص تبلیغ سارا دن کرنا مشکل ہے پس مبلغین کو تبلیغ کے ساتھ تعلیم اور تربیت کے کام بھی کرنے ضروری ہیں اور خرابی اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ مبلغ یہ کام نہیں کرتے۔تبلیغ کا محکمہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے اور جب کہیں سے رپورٹ آ جائے کہ کسی مبلغ کا لیکچر ہو گیا تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ بس ہمارا کام ہو گیا حالانکہ تعلیم وتربیت بھی مبلغ کے فرائض میں ہے اور اسی وجہ سے بعض دفعہ مجھے خیال آتا ہے کہ یہ دونوں محکمے اکٹھے کر دیئے جائیں۔کوئی مبلغ تبلیغ کا کام سارا وقت نہیں کر سکتا مگر تعلیم و تربیت کا کام کر سکتا ہے۔تعلیم و تربیت کے کام میں زیادہ اونچا بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس لئے یہ کام زیادہ دیر تک کیا جا سکتا ہے اور جب تک مبلغین اس طرح کام نہ کریں گے ان کی اپنی اصلاح بھی نہیں ہوسکتی اور کام بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔میں جانتا ہوں کہ سوائے چند کے باقی سب مبلغ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور یہ ہے بھی ناممکن کہ کوئی شخص خالی مبلغ ہو سکے۔ہمارے مبلغ زیادہ سے زیادہ ہفتہ میں ایک دو تقریریں کرتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ کام ہو گیا۔مگرستر ہزار روپیہ چند تقریروں پر صرف کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔اگر وہ چار ہزار تقریریں بھی سال میں کریں تو گویا ایک تقریر کی فیس ۱۶۔۱۷ روپیہ ہوئی جو سول سرجن کی فیس کے