خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 586

خطابات شوری جلد دوم ۵۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء جس کے نتیجہ میں اس کی ترقی خواہ عارضی طور پر ہی سہی رُک جائے۔میں نے بہت سے رویا دیکھے ہیں جن کا ذکر میں مناسب نہیں سمجھتا اور بعض کو منذر رویا میں نے کسی کے سامنے بھی بیان نہیں کیا لیکن وہ بہت سے خطرات پر دلالت کرتے ہیں گو ان میں سے بعض خوشکن بھی ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخر ہماری کامیابی کی صورت نکل آئے گی لیکن اگر درمیان میں ایسے حوادث پیش آجائیں جو جماعت کے وجود کو قریب قریب ملیا میٹ کر دیں تو آخری کامیابی اتنی خوشکن نہیں رہ جاتی۔جماعت کو اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کی تلقین لیکن اگر جماعت اجتماعی اور انفرادی دعاؤں میں لگ جائے تو چونکہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کی جماعت ہے وہ اس کی دعاؤں کو ضرور سنے گا۔پس چاہئے کہ دوست انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی دعاؤں میں لگ جائیں۔نماز کی آخری رکعت میں امام دعا کرے اور سب مقتدی اس کے ساتھ شامل ہوں۔اور اگر سب دوست اس طرح دعاؤں میں لگ جائیں تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو سن کر جو دراصل اس کے دین کے لئے ہی ہوں گی جماعت کو بچالے اور ان خطرات کو جو اس کے کاموں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں دور کر دے۔اللہ تعالیٰ کو اپنا دین ایسا پیارا ہے جیسے ماں کو اکلوتا بیٹا پیارا ہوتا ہے اور جب ہم اُس چیز کے لئے جو اُسے اس درجہ پیاری ہے اتنی دعائیں کریں تو وہ اپنی شانِ محبوبیت اور شانِ رحمانیت کے ماتحت ہماری دعاؤں کو بہانہ رکھ کر اپنی تقدیر کو بھی بدل دے گا۔دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے وہ دنیا کے لحاظ سے گو بہت اہمیت رکھتا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے لحاظ سے کچھ نہیں۔اس کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی چیز وہی ہو سکتی ہے جو اُس کے دین پر نیک اثر ڈالنے والی اور اسلام کو تقویت دینے والی ہو۔پس دین اور اسلام پر خطرناک اثر ڈالنے والی باتوں کو منسوخ کر دینا اُس کے لئے کوئی بڑی چیز نہیں اور دعا کے نقطہ نگاہ سے یہ کوئی بڑا کام نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان خطرات کو اس کام کی خاطر مٹانے سے دریغ کرے جو اُس کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک دین ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے دنیا کے کام جب دین کے مقابل پر آئیں تو اللہ تعالیٰ انہیں مثانے سے دریغ نہیں کرتا۔یا پھر وہ ان