خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 585
خطابات شوری جلد دوم ۵۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء کوشش کی جائے یا کہ اختتام جنگ تک انتظار کیا جائے۔خرچ کے تخمینہ اور دیگر امور کے متعلق اجلاس مشاورت میں روشنی ڈالی جائے گی دوسرا دن نازک حالات میں اپنے فرائض کو سمجھیں مجلس مشاورت کے دوسرے روز کا روائی کے آغاز میں تلاوت قرآن کریم کے بعد حضور نے تمام مجمع سمیت دعا کروائی اور اس کے بعد فرمایا: - دنیا اس وقت سخت نازک حالات میں سے گزر رہی ہے ہمارے سامنے جو کام ہے وہ بہت اہم اور عظیم الشان ہے اور ہم اسے پورا نہیں کر سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہمیں حاصل نہ ہو۔ہمیں بہت زیادہ خشیت اللہ اور بہت زیادہ ایمان اور بہت زیادہ قوت عملیہ سے کام لینا چاہئے۔ہمارے لئے آج حقیقی معنوں میں زندگی اور موت کا سوال پیدا ہو رہا ہے۔میں اس لفظ کو اِس کے عام معنوں میں استعمال نہیں کر رہا۔لوگ بالعموم معمولی معمولی باتوں کے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن حقیقتاً یہ اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتا اور ایسے ہی موقع پر بولا جا سکتا ہے جب واقعی کسی قوم یا کسی انسان کے لئے مرجانے کا سوال ہو، خواہ وہ موت جسمانی ہو یا روحانی اور میں اس لفظ کی پوری پوری اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج یہ کہہ سکتا ہوں کہ واقعی اس وقت جماعت کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔حالات ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مدد آڑے نہ آئے تو ممکن ہے کہ ہماری مسلسل کامیابی کا دور کچھ عرصہ کے لئے مٹ جائے۔اس وجہ سے ضروری ہے کہ ہم بہت زیادہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور دعائیں کریں، بہت زیادہ دعائیں کریں اور بہت زیادہ ایمان اپنے دلوں میں پیدا کریں تا اللہ تعالیٰ جس کے اختیار میں ترقی ہے اور جس کے فضل کے ماتحت ہم نے آج تک ترقی کی بھی ہے، جس کے ہاتھ میں موت اور حیات دونوں ہیں ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے۔پس اپنے آپ کو ایسا بنا لو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہونے لگے اور خدا تعالیٰ اس بات سے رُکے کہ اس جماعت کو کوئی ایسی تکلیف پہنچے