خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 584

خطابات شوری جلد دوم ۵۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۲ء لئے میں تجویز کرتا ہوں کہ نظارت علیاء، نظارت تألیف و تصنیف اور نظارت بہشتی مقبرہ کے لئے ایک سب کمیٹی بنائی جائے ، نظارت بیت المال کی تجویز نمبر ۲ بھی اس سب کمیٹی سے تعلق رکھے گی۔دوسری سب کمیٹی نظارت تعلیم و تربیت اور نظارت دعوۃ و تبلیغ کے لئے ہوگی۔تیسری سب کمیٹی صرف نظارت بیت المال کے لئے ہوگی جو بجٹ پر غور کرے گی اس طرح تین کمیٹیاں ہو جائیں گی۔نظارت امور خارجہ کی تجویز پر غور کرنے کے لئے کسی کمیٹی کے بنانے کی ضرورت نہیں اگر موقع ہوا تو نظارت امور خارجہ کی رپورٹ پر ہی غور کیا جا سکتا ہے۔گو میرے نزدیک آجکل اس قسم کے حالات پیدا ہورہے ہیں کہ بالکل ممکن ہے اب اس سوال کی ضرورت ہی نہ رہے۔“ نظارت تألیف و تصنیف کی تجویز میں ترمیم دو میں نے نظارت تألیف و تصنیف کی تجویز میں کسی قدر ترمیم کر دی ہے 66 انہیں چاہئے تھا کہ تجویز کے الفاظ ایسے رکھتے جو مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے والے ہوتے مگر افسوس ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا حالانکہ جلسہ سالانہ پر میں نے وضاحت سے بتا دیا تھا کہ سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کے دوران میں قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ و تفسیر کو اگر شائع کیا جائے تو خرچ زیادہ ہوگا بلکہ زیادہ اہمیت رکھنے والا سوال یہ ہے کہ اس وقت انگلستان میں کسی کا چھپوانے کے لئے جانا سخت مشکل ہے اور اگر ہندوستان میں چھپوایا جائے تو یہاں کا چھپا ہوا قرآن کریم یورپ میں فروخت نہیں ہو سکتا اور نہ انگریز ہندوستان کی چھپی ہوئی کسی کتاب کو خریدنا پسند کرتے ہیں کیونکہ یہاں کی چھپوائی بہت ناقص ہوتی ہے۔پس اصل سوال جو قابلِ غور تھا یہی تھا کہ کیا اسے ہندوستان میں چھپوانے کی کوشش کی جائے یا اختتام جنگ تک انتظار کیا جائے۔مگر اسے بالکل چھوڑ دیا گیا ہے اس لئے میں نے اس تجویز میں کچھ ترمیم کر دی ہے اور اب اس تجویز کے الفاظ یہ ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے انگریزی ترجمہ و تفسیر القرآن مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس وقت انگلستان میں چھپوائی کا انتظام قریباً ناممکن ہے نیز موجودہ جنگ کے دوران میں کاغذ وغیرہ کی بے حد گرانی کی وجہ سے خرچ بہت زیادہ ہوگا کیا ان حالات میں اسے ہندوستان میں چھپوانے کی