خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 45
خطابات شوری جلد دوم ۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے لئے اپنا روپیہ مجھے قرض دیدیں۔میں اس کے ذریعہ سے تحریک جدید کے ریز روفنڈ کو مضبوط کروں گا اور اگلے سال کے چندہ سے ان کی رقم واپس کر دوں گا۔ایسی رقوم بہر حال یکم اپریل ۱۹۳۷ ء تک اِنْشَاءَ الله واپس کر دی جائیں گی۔اگر احباب اس طرح تعاون کریں تو جماعت پر بغیر کسی قسم کا زائد بوجھ ڈالنے کے کام چلایا جا سکتا ہے اور سلسلہ کی آمدنی کا بہت بڑا انتظام کیا جاسکتا ہے۔اگر ہمارا ریز روفنڈ کامیاب ہو جائے تو سو فیصدی چندہ تبلیغ کے کام پر اور ان مقاصد پر جو مرکز سے نہیں بلکہ باہر سے تعلق رکھتے ہیں خرچ ہوگا اور مرکز کے اخراجات ریز رو فنڈ کی آمدنی سے چلائے جاسکیں گے ، چندہ میں سے مرکز میں کچھ نہیں لگے گا۔اس وقت جو زمین خریدی جا چکی ہے اُس زمین کا انتظام اس ارادہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ جماعت کے زمیندار اسے خرید لیں۔اس کے لئے ”الفضل میں اعلان بھی کیا گیا مگر کسی نے توجہ نہ کی۔اس پر نصف سے کچھ زائد صدرانجمن احمدیہ نے خرید لی اور باقی کچھ اور لوگوں نے جن میں میں بھی شامل ہوں۔لیکن میں برابر اس فکر میں رہا ہوں کہ جماعت کے زمینداروں کی اصلاح کے لئے اور رقبے حاصل کئے جائیں اور چونکہ دوستوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں ایسی سکیم میں حصہ لینا چاہئے تھا اس لئے سنڈیکیٹ جو ایک کمپنی زمیندارہ کے متعلق ہے اور جس میں یہ حصہ صدرانجمن احمدیہ کا ہے اور رقبہ جات کی فکر میں ہے۔میں دوستوں کو پھر توجہ دلاؤں گا کہ اگر کامیابی ہو تو دوست اس دفعہ پھر غفلت نہ برتیں بلکہ زمیندار لوگ محنت سے کام لیں۔اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کریں۔یوں سکتے اپنے گھروں میں پڑے رہنے سے کچھ نہیں بنتا۔انہیں چاہئے کہ جہاں زمین مل سکتی ہو چلے جائیں اور تھوڑی زمینداری پر کئی کئی خاندان نہ پڑے رہیں۔آج زمینداروں کی حالت بہت ہی قابلِ رحم ہو رہی ہے۔میں دوستوں کو کئی بار توجہ دلا چکا ہوں کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکل کر اپنی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کریں مگر وہ کچھ ایسے ضدی واقعہ ہوئے ہیں کہ اپنے وطنوں کو چھوڑتے ہی نہیں۔دوسری سکیم دوسری حکیم یہ ہے کہ یہاں کا رخانے جاری کئے جائیں۔جراب سازی کا کارخانہ تو اپنے طور پر قائم ہو چکا ہے اور وہ اس سکیم کے ماتحت نہیں گو 1