خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 43
خطابات شوری جلد دوم ۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء صرف ایک قیمت ادا کریں اور وہ یہ کہ مرکز میں یہ رپورٹ بھجوا دیں کہ انہوں نے اشتہارات کس طرح تقسیم کئے اور ان کا کیا اثر ہوا ۔ یہ ایک چھوٹا سا کام ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں اور اس لئے توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اس میں بھی فیل ہو گئے ۔ میں بتا چکا ہوں کہ روحانی ترقی کا روپیہ پر انحصار نہیں مگر موجودہ حالات کے لحاظ سے روپیہ کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے جماعت کو تحریک ہوتی رہتی ہے۔ میں نے تحریک جدید اور صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے ایسے کام شروع کرائے ہیں کہ ان کے ذریعہ کچھ آمد ہو سکے اور اس غرض کے لئے کچھ زمین بھی خریدی گئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کچھ عرصہ تک وہ زمین اپنا بوجھ برداشت کرنے لگ جائے گی اور اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ آمد دینے لگے گی ۔ گو اس وقت تک صدرانجمن احمدیہ کا پچاس ہزار کے قریب اور تحریک کا پچاس ہزار کے قریب روپیہ خرچ ہوا ہے لیکن امید ہے کہ آخر یہ جائداد بارہ تیرہ لاکھ کی ہو جائے گی یا اس سے بھی زیادہ کی ۔ میرا ارادہ ہے کہ اسی طرح کچھ اور جائداد خریدی جائے ، یہاں تک کہ دفاتر کے مستقل اخراجات کا بار چندہ پر نہ رہے، چندہ صرف تبلیغ و تعلیم وغیرہ پر خرچ ہو۔ میرا ارادہ ہے کہ جائداد پچیس لاکھ تک بڑھا دی جائے تا کہ اس طرح ریز روفنڈ کی تحریک پوری ہو جائے بلکہ ممکن ہو تو بڑھا کر ایک کروڑ تک پہنچا دی جائے تاکہ تبلیغ کے کام کو زیادہ شدت سے وسیع کیا جا سکے ۔ اس طرح یہ زمین اٹھارہ لاکھ کی بن جاتی ہے اور ساری سکیم ایک کروڑ کی ہے جس کے لئے خدا کے فضل سے ایسے سامان پیدا ہو گئے ہیں اور اس طرح پیدا ہوئے ہیں کہ جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ مگر اس سکیم کو مکمل کرنے کے لئے شروع میں غیر معمولی قربانیوں کی بھی ضرورت ہو گی ۔ مگر اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ اس وقت ہمارے چندوں کا اکثر حصہ تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے بلکہ تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے اور صرف سائر کے لئے رہ جاتا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ یا عملہ پر خرچ ہو اور سائر پر بلکہ ممکن ہو تو اس سے بھی زیادہ فرق ہوتا کہ سلسلہ کا لٹریچر ساری دنیا میں پھیلایا جائے ۔ حضرت مسیح موعود کی کتب کا دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ ہو، ہر ملک میں مبلغ جائیں، وہاں کے لوگوں کو یہاں بلوا کر تعلیم و بُلوا کر تعلیم دی جائے، ہائے، جماعت کے ناداروں کو کام پر لگانے کی ، یتامی اور مساکین کی پرورش کی پوری طرح ذمہ داری لی جائے مگر اب تک ہم یہ نہیں کر سکے