خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 42
خطابات شوری جلد دوم ۴۲ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء زمین و آسمان میں درد پیدا ہو گا اور وہ لوگوں کے سینے میں جاگزیں ہو جائے گا اور وہ حق کی طرف دوڑے آئیں گے۔پس جلسے کرو، ان میں تقریریں کرو اور مبلغوں سے بے نیاز ہو جاؤ۔جس جلسہ میں مبلغین شامل ہوں اُسے تعیش یا عید کے دن کی طرح سمجھو جس کی نسبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ کھانے پینے کا دن ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے وہ دن بہتر ہوتا ہے جس میں فاقہ کیا جائے۔مبلغین کو بلا کر جلسہ کرنا سیر و تفریح ہے، تبلیغی جلسہ نہیں۔جلسہ وہی ہے جس میں خود جلسہ کرنے والے لوگوں کو حق وصداقت کا پیغام پہنچائیں۔لٹریچر صحیح طور پر تقسیم کیا جائے پانچویں تجویز یہ ہے کہ لٹر پچر کو صحیح طور پر تقسیم کیا جائے۔میں نے اس طرف متواتر توجہ دلائی ہے مگر ابھی تک توجہ نہیں کی گئی۔اشتہار چھاپ کر یونہی لوگوں کو بھیج دیئے جاتے ہیں جو بالکل ضائع جاتے ہیں۔اس پر میں نے ہدایت کی کہ جو اشتہار بھیجنے کے لئے لکھے، اُسے اس شرط پر بھیجو کہ وہ بعد میں اطلاع دے کہ کس طرح تقسیم کئے اور کیا اثر ہوا۔اس پر صرف دس بارہ جماعتوں نے لکھا۔چنانچہ تمیں ہزار اشتہارات میں سے زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار بھیجے جا سکے۔اس سے معلوم ہوا کہ پہلے جو اشتہارات بھیجے جاتے تھے وہ یونہی پڑے رہتے تھے۔چونکہ لٹریچر کی صحیح تقسیم بہت عمدہ نتائج پیدا کر سکتی ہے اس لئے اس کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔اشتہار تقسیم کرنے کے متعلق میں نے کہا تھا کہ تحریک جدید کے اشتہارات کسی مقررہ قیمت کے نہیں ہونگے۔اگر کوئی جماعت ساری قیمت ادا نہیں کر سکتی تو آدھی ادا کر دے، اگر آدھی نہیں تو تہائی ادا کر دے، اگر تہائی نہیں تو چوتھائی ادا کر دے، اگر یہ بھی نہیں تو کچھ حصہ ہی ادا کر دے، اگر اتنا بھی نہیں تو مفت منگا لے۔اس کے مقابلہ میں صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ یہ اطلاع دے دی جائے کہ کس طرح اشتہار تقسیم کئے گئے ہیں اور ان کا کیا اثر ہوا ہے۔اگر کوئی یہ بھی نہیں کر سکتا تو کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اشتہارات درست طور پر تقسیم کئے جاتے ہیں۔اس وجہ سے میں نے ان کی اشاعت بند کر دی مگر یہ سرزنش کے طور پر تھا اس لئے پھر کہتا ہوں کہ جو جماعتیں جس قدر قیمت دے سکیں دے کر حسب ضرورت اشتہارات منگا سکتی ہیں لیکن جو یہ بھی نہ کر سکیں وہ لکھ دیں، انہیں مفت بھیج دیں گے اور