خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 564

خطابات شوری جلد دوم ۵۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء قومیں ہیں اس لئے لڑائی کے دنوں میں بھی وہ اپنی دلچسپی کو قائم رکھنے کے لئے کھیلیں کھیلتی ہیں اور کھیلیں بھی وہ جو اُن کی ذہانت اور ان کی طاقت کو بڑھانے والی ہوتی ہیں۔اسی طرح اگر خدام الاحمدیہ چاہیں تو وہ آنکھوں اور کانوں اور ناک اور زبان کے ٹیسٹ کے متعلق ایسی ایسی دلچسپ کھیلیں ایجاد کر سکتے ہیں کہ لڑکے ٹوٹ پڑیں اور وہ بڑے شوق سے ان میں حصہ لینے لگ جائیں۔کھیلوں کی اہمیت یہ امر یا درکھو کہ اسلام ہرگز یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے لڑکوں کو افسردہ دل اور افسردہ دماغ بناؤ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔الصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا یعنی بچہ بچہ ہی ہوتا ہے خواہ اس نے بعد میں نبی ہی کیوں نہ بن جانا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بھی ثابت ہے کہ آپ بچپن میں کبھی چڑیوں کا شکار کرتے ، کبھی غلیلیں بناتے اور کبھی سواری سیکھتے۔گویا اس زمانہ کے نبی اور مامور نے بھی بچپن کی عمر میں کھیلوں میں حصہ لیا ہے اور جب آپ نے اس میں حصہ لیا تو اور کون ہے جو کھیلوں میں حصہ لینا خلاف اسلام قرار دے۔حقیقت یہ ہے کہ جن بچوں کو کھیلنے سے روکا جاتا ہے وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔ہماری جماعت کے ہی ایک مشہور کارکن ہیں اُن کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے بچے کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے نتیجہ یہ ہوا کہ بڑے ہو کر ان کا وہ بچہ نہ دنیا کا رہا نہ دین کا۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ وہ لڑکا جسے دوسروں سے الگ رکھا جائے گا وہ دوسروں سے زیادہ اچھا کبھی نہیں بن سکے گا کیونکہ اس میں قوت عملیہ مفقود ہوگی۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ تم اپنے بچوں کو نہ کھلاؤ۔انہیں کھلاؤ اور پہلے سے زیادہ کھلاؤ اور جتنا ہنسی مذاق وہ پہلے کیا کرتے ہیں اُس سے بھی زیادہ ہنسی مذاق اُنہیں کرنے دو۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ تم ان کی کھیلوں کو مہذب اور اُن کی ہنسی اور مذاق کوشستہ بنا دو اور ان پر یہ اثر ڈالو کہ تمہیں ان کی کھیلوں سے دلچسپی ہے۔پس اطفال الاحمدیہ کا قیام صرف اس لئے نہیں ہوا کہ اطفال جمع ہوں اور یہ دیکھ لیا جائے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔بے شک نماز پڑھنا بھی اطفال کے لئے ضروری ہے لیکن جو بچے نماز نہیں پڑھتے در حقیقت ان کے ماں باپ مجرم ہوتے ہیں مگر بہر حال یہ ایسی چیز ہے جس کی نگرانی ان کے ماں باپ کر سکتے ہیں۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ جو مدد دے