خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 565
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کھیل کود کے وقت ان کی نگرانی کریں جبکہ بچوں کے ماں باپ ان کے ساتھ نہیں ہوتے۔اگر یہ کام کیا جائے تو ہمارے بچے زیادہ عقل، زیادہ سمجھ اور زیادہ فہم اور زیادہ فراست والے پیدا ہو سکتے ہیں۔میں نے خود ایک ایسا کھیل سیکھا ہوا ہے کہ اگر آج کھیل کے متعلق دلچسپ روایت کوئی بچہ وہی کھیل سیکھنے لگے تو شاید پچاس ساٹھ فیصدی احمدی کہنے لگ جائیں کہ تو بہ تو بہ کیسی لغو کھیل سیکھ رہا ہے حالانکہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مدد سے وہ کھیل سیکھا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک احمدی دوست آئے اور کہنے لگے میرا دل چاہتا ہے کہ میں حضور کو کسی طرح خوش کروں۔مگر میں غریب آدمی ہوں نذرانہ دے نہیں سکتا اور عالم بھی نہیں کہ اپنے علم کے زور سے کوئی خدمت بجا لا سکوں۔مجھے صرف تماشے دکھانے آتے ہیں اگر اجازت ہو تو میں حضور کو وہ تماشے مسجد میں دکھا دوں۔اگر آج کسی مسجد میں تماشہ دکھایا جانے لگے تو شاید اسی فیصدی احمدی شور مچا دیں کہ یہ کفر ہو گیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ بات سنی تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا بہت اچھا ہم تماشہ دیکھیں گے۔چنانچہ وہ مداری کا تھیلا لے کر مسجد مبارک میں مغرب کی نماز کے وقت آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز مغرب کے بعد مسجد میں بیٹھا کرتے تھے۔چنانچہ آپ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے اور ان صاحب نے اپنے کرتب دکھانے شروع کئے۔کبھی گولہ غائب کر دیتے، کبھی تاش اُڑانے لگ جاتے ، کبھی کچھ کرتے اور کبھی کچھ۔مجھے خوب یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کے بائیں طرف گوشہ میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھے تھے اور آپ سے ذرا پرے حضرت خلیفہ اول مولوی نورالدین صاحب بیٹھے تھے۔حضور کے بائیں طرف میں بیٹھا تھا اور مجھ سے ہٹ کر ایک طرف پیر سراج الحق صاحب تھے۔غرض اُس نے عجیب وغریب تماشے دکھانے شروع کر دیئے۔کبھی بوتل دکھا تا اور پھر وہ غائب ہو جاتی اور اس کی جگہ گلاس آجاتا اور کبھی گلاس بھی غائب ہو جا تا۔مولوی عبد الکریم صاحب بہت سادہ طبیعت کے تھے۔وہ تماشہ دیکھتے جائیں اور سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللهِ کہتے جائیں۔مگر حضرت خلیفہ اول ان باتوں کو جانتے تھے۔اور وہ تو اس کا پول بھی کھولنے لگے