خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 561

۵۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم تو خود بخود دے رہا ہے اس میں تمہاری کونسی خوبی ہے کہ تم اس فخر کو اپنی طرف منسوب کرو۔مثلاً جو شخص پہلے ہی نمازیں پڑھنے کے عادی ہیں اُن کو پیش کر کے اگر کہا جائے کہ یہ ہماری جد و جہد سے نماز کے پابند ہوئے ہیں تو یہ ناجائز تعریف حاصل کرنے والی بات ہوگی کیونکہ نماز پڑھنے کے وہ پہلے ہی عادی تھے تو کام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ سُست ہوں انہیں ہوشیار کیا جائے نہ یہ کہ سُست افراد کو تو الگ کر دیا جائے اور چست افراد کی نیک نامی خود حاصل کر لی جائے۔مثلاً خدام الاحمدیہ کا دفتر جب میرے پاس یہ رپورٹ کرتا ہے کہ اتنے آدمی خدام الاحمدیہ کی تنظیم کی وجہ سے نماز باجماعت کے پابند ہیں تو میں انہیں یہی کہا کرتا ہوں کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ کتنے بے نمازوں کو تم نے نماز کا عادی بنایا ؟ جو لوگ پہلے ہی نمازوں کے پابند تھے ان کو تم اپنی طرف کیوں منسوب کرتے ہو؟ تم اپنی طرف وہ کام منسوب کرو جو تم نے کیا ہے لیکن اگر کوئی کیا کرایا کام تمہیں مل گیا ہے تو وہ تمہارا کام نہیں اور نہ اس کی تعریف تمہیں حاصل ہوسکتی ہے۔پس یہ طریق بالکل غلط ہے اور جماعت کے لئے سخت مضر ہے۔اس سے نہ صرف جماعت کسی تعریف کی مستحق نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے افراد میں ترقی کے بجائے تنزل کے آثار پیدا ہو جائیں گے اور جب کمزوروں کے نام جماعت کی لسٹ میں سے کاٹ دیئے جائیں گے تو ان کی اصلاح کا خیال جاتا رہے گا اور آہستہ آہستہ ان کا ایمان بالکل ضائع ہو جائے گا۔ذیلی تنظیموں میں شمولیت اس کے بعد گو بجٹ کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں مگر میں جماعتوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے اس سال یہ پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ تمام نو جوان جو ۵ اسال سے چالیس سال تک کی عمر کے ہیں وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہو جائیں اور چالیس سال سے جو او پر عمر رکھتے ہیں وہ انصار اللہ میں شامل ہو جائیں۔چونکہ اس وقت تمام جماعتوں کے نمائندے جمع ہیں اس لئے میں پھر اس معاملہ کو دوستوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔مجھے یہ معلوم نہیں کہ ہر جگہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں یا نہیں۔خدام الاحمدیہ کی رپورٹیں تو باقاعدگی کے ساتھ میرے سامنے پیش ہوتی رہتی ہیں مگر انصار اللہ میں سے صرف قادیان کے انصار کی رپورٹ چند دن ہوئے مجھے ملی ہے۔اس