خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 562
۵۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم کے علاوہ باہر سے کسی جماعت کی رپورٹ نہیں آئی لیکن میں سمجھتا ہوں اسکے بغیر کبھی جماعتی تنظیم مکمل نہیں ہو سکتی۔اگر ہر جگہ مجالس اطفال احمدیہ قائم ہو جائیں، ہر جگہ مجالس خدام الاحمدیہ قائم ہو جائیں اور ہر جگہ مجالس انصار اللہ قائم ہو جائیں تو ساری جماعت پروئی جاتی ہے اور اس طرح جماعت کے تین ہار بن جاتے ہیں۔ایک اطفال الاحمدیہ کا ہار، ایک خدام الاحمدیہ کا ہار اور ایک انصار اللہ کا ہار، اس تنظیم کے ساتھ ہر فرد جماعت کے سامنے آجاتا ہے اور اس کے متعلق یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے اور دینی کاموں سے وہ کس حد تک دلچسپی لیتا ہے۔پھر اس طرح ایک رنگ میں منتظم جماعت کی مردم شماری بھی ہو جاتی ہے۔بیشک جلسوں وغیرہ میں پہلے بھی جماعت کے افراد شامل ہوا کرتے تھے مگر اُس وقت ان پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی اور نہ زیادہ تعھد سے یہ دیکھا جاتا تھا کہ کون غیر حاضر ہے اور اس کی غیر حاضری کی کیا وجہ ہے لیکن اس تحریک کے ماتحت چونکہ سب ہم عمر ایک جگہ اکٹھے کر دیئے گئے ہیں اس لئے وہ ایک دوسرے کی نگرانی کر سکتے ہیں اور انہیں کام کرنے کی مشق بھی ہو سکتی ہے۔پھر سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح چھوٹی عمر سے ہی بچوں کی تربیت اسلامی اصول کے ماتحت شروع ہو جائے گی جو بڑے ہو کر ان کے کام آئے گی۔علاوہ ازیں چونکہ ان مجالس میں شامل ہونے والوں میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی کام کرنا پڑتا ہے اس لئے ہر فرد کسی نہ کسی رنگ میں سامنے آ جاتا ہے۔غرض یہ ایک اتنا اہم کام ہے کہ اگر اس طرف توجہ نہ کی جائے تو جماعتی ترقی کبھی نہیں ہو سکتی اور تربیتی حصہ میں بھی ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہر جگہ ذیلی تنظیمیں قائم کی جائیں پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جب وہ اپنی اپنی جماعتوں میں جائیں تو ہر جگہ انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی جماعتیں قائم کریں۔اطفال کے لئے میں نے ضروری قرار دیا ہے کہ انہیں موٹے موٹے دینی مسائل سکھائے جائیں اور وہ باتیں بتائی جائیں جو مذہب کی بنیاد ہوتی ہیں۔اسی طرح میرا مقصد اطفال الاحمدیہ کے قیام سے یہ ہے کہ کھیل کود میں بچوں کی نگرانی کی جائے یہ نہیں کہ انہیں کھیل کود سے روکا جائے بلکہ کھیل کود کے نامناسب اور گندے اثرات سے اُنہیں بچایا جائے۔مثلاً بعض دفعہ جب کسی لڑکے سے۔