خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 557
۵۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم سکتی ہو۔مثلاً لاہور یا دہلی میں چونکہ کا تب بہت زیادہ ہیں اس لئے ممکن ہے ان میں مقابلہ ہو جاتا ہو اور بعض کم اجرت پر لکھنے کیلئے تیار ہو جاتے ہوں۔یا مطبع والوں میں مقابلہ ہو جاتا ہو تو بعض کم نرخ پر چھاپنے کے لئے تیار ہو جاتے ہوں۔یا اخبار کے لئے معمولی کاغذ استعمال کر لیا جاتا ہو مگر یہاں تو کاغذ لانے پر ہی کافی خرچ آجاتا ہے اور پھر کتابت اور طباعت کے لئے بھی یہاں آسانیاں میسر نہیں اس لئے یہ کہنا کہ اخبار پر پون پیسہ فی پرچہ لاگت آتی ہے، یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے۔میں نے اخراجات کا جو اندازہ لگوایا ہے دوستوں کے سامنے پیش کر دیا ہے اور پھر اس میں بھی ایڈیٹوریل اخراجات یا ڈاک کا خرچ شامل نہیں۔پس الفضل کی قیمت زیادہ نہیں بلکہ اگر بقایا وغیرہ دیکھا جائے تو عملاً اخبار کو اس قیمت میں گھاٹا ہے۔شورای میں لجنہ کی نمائندگی ایک ضروری بات میں جمعہ کی نمائندگی سے متعلق بھی کہتا چاہتا ہوں۔ہر سال لجنہ سے رائے لی جاتی ہے مگر ہر دفعہ اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور کبھی اسے مجلس شوریٰ میں پیش نہیں کیا جاتا۔میری تجویز یہ ہے کہ آئندہ مجلس شوریٰ میں ایک لجنہ اماء اللہ کا نمائندہ بھی ہوا کرے اور بیرونی جماعتوں کی لجنات سے جو جو تجاویز پرائیویٹ سیکرٹری کو موصول ہوں وہ سب دفتر پرائیویٹ سیکرٹری لجنہ کے اس نمائندہ کو پہنچا دیا کرے۔اس کا یہ فرض ہوگا کہ وہ ہر موقع پر لجنات کی رائے بھی پیش کرتا چلا جائے اور بتائے کہ فلاں لجنہ کی اس کے متعلق یہ رائے ہے اور فلاں کی یہ رائے۔اس طرح نہ صرف ان کی آراء کا پتہ لگ جائے گا بلکہ ممکن ہے بعض دفعہ کوئی لطیف اور مفید بات بھی معلوم ہو جائے اور اگر اس طریق کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہوا تو بھی کم سے کم اس طرح یہ پتہ لگتا رہے گا کہ ہماری جماعت کی مستورات کی ذہنی ترقی کا کیا حال ہے۔جب ان کی آراء پڑھی جائیں گی تو اُس وقت معلوم ہوگا کہ بعض دفعہ تو ان کی رائے نہایت ہی مضحکہ خیز ہوگی جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ فلاں فلاں معاملہ میں عورتوں کو حالات کا بالکل علم نہیں اور بعض دفعہ ان کی رائے بہت اعلیٰ ہوگی جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ فلاں فلاں معاملہ میں عورتوں کا علم زیادہ پختہ ہے۔تو ان کی آراء کے پڑھے جانے پر ہماری جماعت کے دوست ساتھ ساتھ یہ موازنہ بھی کرتے چلے