خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 551

خطابات شوری جلد دوم ۵۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ظلمت نے دنیا کا چاروں طرف سے احاطہ کیا ہوگا تھا اس لئے باوجود اس کے کہ سید احمد صاحب بریلوی ایک عظیم الشان بزرگ ہوئے ہیں، سید اسمعیل صاحب شہید بہت بڑے ولی ہوئے ہیں پھر بھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ بدکاریوں کا ایک عظیم الشان سمندر تھا جو دنیا کو اپنے زور میں بہائے چلا جارہا تھا۔پس بے شک اس زمانہ میں بھی بڑے بڑے اولیاء گزرے ہیں مگر چونکہ اجتماعی رنگ میں وہ زمانہ نیکی کا زمانہ نہیں تھا اس لئے سب لوگ اس زمانہ کو بُرا کہتے ہیں یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا کہ اس زمانہ سے بھیڑیوں نے بھی پناہ مانگی ہے۔تو جس قد ر ا جتماعی کام ہیں ان میں انسان کو اس تمام تنقیص ، مذمت اور ندامت میں سے حصہ لینا پڑتا ہے جو کسی جماعت یا قوم کے حصہ میں آتی ہے اور اگر حصہ نہ لینا پڑے تو قومی روح انسان کے اندر پیدا نہیں ہو سکتی۔دنیا میں لڑکا بُرا ہو تو باپ بھی اس کی بدنامی میں سے حصہ لیتا ہے اور باپ بُرا ہو تو لڑکا اس کی بدنامی میں شریک ہوتا ہے۔ہے۔مثل مشہور ہے کہ کوئی شخص کفن چور تھا۔جب لوگ کسی میت کو قبرستان میں دفن کر کے آتے تو وہ رات کو جاتا اور قبر کھود کر کفن نکال لاتا۔لوگ بڑی گالیاں دیتے اور کہتے کہ خدا اس کا بیڑا غرق کرے اس نے تو ہمیں تنگ کر رکھا ہے۔آخر کچھ دنوں کے بعد وہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی پھر بُرائیاں بیان کرنی شروع کر دیں اور کہنے لگ گئے کہ بڑا خبیث تھا، خدا کی اس پر لعنت ہو اور وہ اسے دوزخ میں ڈالے، اس نے دنیا میں بڑی خباثت پھیلائی ہوئی تھی۔اس کا بیٹا نیک انسان تھا جب اس کے باپ کو کوئی شخص بُرا بھلا کہتا تو اسے تکلیف محسوس ہوتی مگر باپ کی زندگی میں تو اس نے اس بات کو زیادہ محسوس نہ کیا جب اس کے مرنے کے بعد بھی لوگوں نے لعنتیں ڈالنی بند نہ کیں تو اُسے بہت تکلیف ہوئی۔آخر وہ کسی عقلمند سے مشورہ لینے کے لئے گیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اور کہنے لگا کہ میرا باپ خود تو بُرا آدمی تھا ہی مجھے یہ تکلیف ہے کہ مجھے اس کی برائیاں سننی پڑتی ہیں اور میں نہ ان کی تائید کر سکتا ہوں اور نہ تردید کر سکتا ہوں آخر کروں تو کیا کروں ؟ وہ کوئی مذاقی آدمی تھے کہنے لگے تم چند دنوں تک یوں کرو کہ جب لوگ کسی میت کو قبرستان میں دفن کر کے چلے جائیں تو تم قبر کھود کر میت کو باہر پھینک دیا کرو۔اُس نے چند دن ایسا ہی کیا تو لوگوں میں ایک شور مچ گیا اور وہ کہنے لگے