خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 552

۵۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم خدا اس پہلے کفن چور کو جنت نصیب کرے ، وہ تو کوئی شریف آدمی تھا کہ صرف کفن چرا تا تھا، میت کی بے حرمتی نہیں کرتا تھا مگر اب تو کوئی ایسا خبیث پیدا ہوا ہے جو میت تک کو قبر سے باہر نکال کر پھینک دیتا ہے۔خیر چند دن ایسا ہوتا رہا۔جب اس نے دیکھا کہ اب اس کے باپ کی لوگ بُرائی بیان نہیں کرتے تو اس نے اس کام کو چھوڑ دیا۔غرض بدی اگر باپ میں ہو تو اس کی ملامت میں بیٹے کو بھی شریک ہونا پڑتا ہے اور اگر بیٹا بدی میں شریک ہو تو اسکی ملامت میں باپ کو بھی حصہ لینا پڑتا ہے۔چنانچہ دیکھ لوساڑھے تیرہ سو برس گزر گئے ابو جہل کو آج تک بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔آج تو ابو جہل کی کوئی اولاد موجود نہیں لیکن عکرمہ آخر ابو جہل کا ہی بیٹا تھا۔جب وہ اپنے باپ کی برائیاں سنتا ہو گا تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔صحابہ کی یہ عادت تھی کہ جب انہوں نے ابو جہل کا ذکر کرنا ہوتا تو کہتے عَدو الله ابو جہل۔یعنی اللہ کے دشمن ابو جہل کی یہ بات ہے۔اب لا زماً ان الفاظ سے عکرمہ کے دل کو تکلیف پہنچتی ہوگی کیونکہ وہ اس کا باپ تھا مگر بہر حال یہ تکلیف انہیں برداشت کرنی پڑتی تھی۔اسکے مقابلہ میں بعض دفعہ خود تم چندوں کی ادائیگی میں سُست ہوتے ہومگر چونکہ تمہاری جماعت اعلیٰ نمونہ دکھاتی ہے اس لئے اس کی تعریف میں تم بھی شریک ہو جاتے ہو۔مثلاً فرض کرو ایک جماعت نے اچھا کام کیا ہے تو جب اس جماعت کی تعریف کی جائے گی تو وہ کمزور لوگ جو چندہ میں سُست ہوں گے وہ بھی پھولے نہیں سمائیں گے اور کہتے پھریں گے کہ ہماری جماعت نے یہ قابل تعریف کام کیا ہے۔جیسے پنجابی میں مثل مشہور ہے کہ کسی کی بھاوجہ نے جو امیر تھی ایک شادی کے موقع پر بیس روپے نیو تہ دیا۔اور خود اس نے ایک روپیہ دیا۔کسی عورت نے اس سے پوچھا کہ تو نے اس شادی میں کتنا نیو تہ دیا وہ کہنے لگی” میں تے بھائی اکی“ یعنی میں نے اور میری بھاوج نے اکیس روپے دیئے ہیں۔گویا دوسرا یہ سمجھے کہ اس نے دس ساڑھے دس روپے تو ضرور دیئے ہونگے حالانکہ اُس نے ایک روپیہ دیا تھا۔تو اجتماعی کاموں میں جہاں بعض دفعہ اچھا کام کرنے کے باوجود مذمت حاصل ہوتی ہے وہاں بعض دفعہ ناقص کام کرنے کے باوجود تعریف حاصل ہوتی ہے۔اور چونکہ اس قانون کا فائدہ زیادہ ہے اور نقصان کم اس لئے دنیا نے اس قانون کو تسلیم کیا ہے۔اور خدا نے بھی اس قانون کو تسلیم کیا ہے مثلاً خدا نے ایک