خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 548

خطابات شوری جلد دوم ۵۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ایسے نازک حالات میں بغیر اس کے کہ صیغہ کے ناظر سے دریافت کیا جاتا ایک ہزار روپیہ کی کمی کر دی گئی ہے۔اور زیادہ تر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کمی ان لوگوں کے سامنے ہوئی ہے جو امن اور آرام کے زمانہ میں موجودہ اخراجات سے ڈیوڑھے بلکہ دوگنے اخراجات کرتے رہے اور صدرانجمن احمد یہ سے رقمیں وصول کرتے رہے ہیں۔یہ بجٹ کا طریق نہیں بلکہ دھینگا مشتی ہے۔طریق یہ تھا کہ ذمہ دار افسر سے اس بارہ میں رپورٹ طلب کی جاتی کہ اگر ولایت کے مشن میں سے اتنے روپے کم کر دیئے جائیں تو آیا کام کو نقصان تو نہیں پہنچے گا ؟ پھر اس کے دلائل پر غور کیا جا تا اور اگر اُس کے دلائل پر غور کرنے کے بعد بھی ان کی یہی رائے ہوتی کہ کمی کی جانی ضروری ہے تو بے شک کمی کر دیتے مگر اب بغیر پوچھے انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہے۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کاموں کے لئے تو دلیلیں دینا جانتے ہیں مگر ماتحت محکموں کے دلائل سننے کے لئے وہ تیار نہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق پر قلم سے سیاہی پھیر دی جائے۔ناظران ماتحتوں کو بھی دلائل دینے کا موقع دیں حالانکہ ناظروں کی دیانت یہی چاہتی ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کو دلائل پیش کرنے کا ویسا ہی موقع دیں جیسے وہ اپنے لئے چاہتے ہیں بلکہ انہیں اپنے ماتحتوں کو اس بات کا زیادہ موقع دینا چاہئے کیونکہ آخری فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس کے ہاتھ میں آخری فیصلہ ہو اُسے بہت زیادہ احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔بہر حال یہ ایک سخت غلطی ہے جو صدرانجمن احمدیہ سے ہوئی اور میں نے علی الاعلان اس کے متعلق تنبیہ کرنا ضروری سمجھا۔میری طبیعت پر مرزا ناصر احمد صاحب کی تقریرین کر بھی یہ اثر ہوتا ہے کہ تخفیف کرتے وقت دوسرے محکموں سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ ان پر اس تخفیف کا کیا اثر ہوگا اور آیا وہ اثر قابل برداشت بھی ہے یا نہیں۔مگر ولایت کے مشن کے متعلق تو جو فیصلہ ہوا ہے وہ نہایت ہی ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہے اور میں اس پر قیاس کر کے کہ سکتا ہوں کہ باقی محکموں کا بھی یہی حال ہوگا کہ ان کے متعلق آپ ہی آپ فیصلہ کر دیا جاتا ہوگا اور ان سے کوئی بات دریافت نہیں کی جاتی ہوگی۔مثلاً مدرسہ احمدیہ ہے اسے یہ فضیلت