خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 547

۵۴۷ خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ہمارا عام تجربہ یہی ہے کہ دوست گنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں گو اس دفعہ زیادہ احتیاط سے کام نہیں لیا گیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کہتے ہیں کہ مجھ پر بھی یہی اثر تھا کہ جامعہ احمدیہ میں کلرک رکھے جانے کی تائید میں زیادہ لوگ تھے۔مگر اس کی وجہ بھی اُنہوں نے بتا دی ہے کہ شاید اگلی صفوں کے دوست چونکہ زیادہ کھڑے ہوئے تھے اس لئے اُنہوں نے یہ خیال کر لیا۔بہر حال یہ بجٹ جس شکل میں پیش ہے اس کے متعلق مجھے مجلس شوری کا فیصلہ معلوم ہو گیا ہے۔اب سابقہ دستور کے ماتحت میں خود اس بجٹ پر غور کروں گا اور جو غلطیاں دکھائی دیں اُن کی اصلاح کرانے کی کوشش کروں گا۔میری ہدایت یہ تھی کہ بجٹ میں سے ۱۵ ہزار روپیہ کا خرچ کم کیا جائے اور اسی کے مطابق بجٹ بنایا گیا تھا مگر یہاں آ کر معلوم ہوا کہ غلطی سے وظائف کی مد میں تین ہزار روپیہ شامل نہیں کیا گیا۔اگر اس کو بھی شامل کر لیا جائے تو پھر میری یہ شرط کہ ۱۵ ہزار روپیہ کم کیا جائے پوری نہیں ہو گی اس لئے میں یہ بجٹ پھر صدرانجمن احمدیہ کو واپس کروں گا کہ وہ اس میں ایسی تبدیلیاں کر دے کہ بجٹ میری عائد کردہ شرط کے ماتحت آ جائے۔ناظران دوسرے محکموں کا بھی خیال رکھیں بجٹ کو دیکھنے کے بعد جہاں تک میں سمجھتا ہوں نظارتوں کے خلاف یہ ایک سخت الزام عائد ہوتا ہے کہ ناظر اپنے محکموں کا تو خیال رکھ لیتے ہیں مگر دوسرے محکموں کا خیال نہیں رکھتے۔مثلاً مجھے نہایت ہی افسوس کے ساتھ معلوم ہوا کہ بغیر اس کے کہ ناظر دعوۃ و تبلیغ سے پوچھا جاتا ولایت کے مشن کے اخراجات میں خود بخود ایک ہزار روپیہ کی تخفیف کر دی گئی ہے اور یہ تخفیف ان ایام میں کی گئی ہے جبکہ جنگ کی تباہ کاریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں اور ضرورت اس امر کی تھی کہ اخراجات کو موجودہ حالات کی نزاکت کی وجہ سے بڑھایا جاتا نہ کہ کم کیا جاتا۔مگر صدرانجمن احمدیہ نے اس میں ایک ہزار روپیہ کی کمی کر دی ہے اور یہ نہیں سوچا کہ اس ملک کے لوگ دن اور رات بموں کے نیچے رہتے ہیں اور ایسے ایسے بم سینکڑوں کی تعداد میں وہاں روزانہ گرتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک کے کسی گاؤں میں دو چار سال میں بھی اس جیسا ایک بم گر جائے تو چھ ماہ تک ماتم پڑا رہے۔مگر