خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 546

خطابات شوری جلد دوم ۵۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خاص خاص امور کے متعلق کوئی تجاویز پیش کرنا چاہتے ہوں اور ضروری سمجھتے ہوں کہ ان پر بحث کی جائے انہیں پیش کر دیں مگر یہ یا درکھیں کہ بارہ بج چکے ہیں۔“ مکرم پیر صلاح الدین صاحب نے تجویز پیش کی کہ جامعہ احمدیہ کے محرر کی اسامی کو قائم رکھا جائے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا۔پیر صلاح الدین صاحب یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ جامعہ احمدیہ میں سے جو کلرک ہٹایا گیا ہے اُسے دوبارہ رکھ دیا جائے اِس لئے جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ جامعہ احمدیہ میں کلرک کو رکھ لیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ آراء شماری پر ۱۰۴ دوستوں نے یہ رائے دی کہ جامعہ احمدیہ میں کلرک رکھا جائے اور ااا نے مخالف رائے دی۔حضور نے فرمایا:- میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جامعہ احمدیہ میں کلرک نہ رکھا جائے۔“ اس پر بعض دوستوں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ ووٹ دوبارہ لئے جائیں کیونکہ اس تجویز کو صحیح طور پر سمجھا نہیں گیا تھا۔اور بعض نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ شمار کرنے میں غلطی ہوئی ہے اس لئے دوبارہ ووٹ لئے جائیں۔حضور نے دوبارہ ووٹ لئے جانے کی تجویز کو مستر د کر دیا اور فرمایا : - غلطی کا امکان تو ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر دوسری دفعہ شمار کرنے والے بدل جاتے تھے۔معلوم ہوتا ہے اس دفعہ ایسے آدمی مقرر نہیں کئے گئے جو لوگوں کو صحیح طور پر گن سکیں۔مگر پھر بھی اس طریق کو ہم جاری نہیں کر سکتے کہ ایک امر کے متعلق دو دفعہ ووٹ لئے جائیں۔پھر اگر اس میں غلطی کا امکان ہے کہ تائید میں ۱۰۴ دوست نہیں تھے تو اس بات میں بھی تو غلطی کا امکان ہو سکتا ہے کہ مخالف ممکن ہے ا نہ ہوں بلکہ ۱۲۱ ہوں۔بہر حال دوبارہ ووٹ نہیں لئے جا سکتے۔مگر اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس دفعہ آراء شماری میں نهایت سخت بدانتظامی تھی اور ہر دفعہ ایک نئی مشکل میرے سامنے آ جاتی تھی لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے ہم یہ طریق جاری نہیں کر سکتے کہ ایک امر کے متعلق دو دفعہ رائے لی جائے کیونکہ