خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 545

خطابات شوری جلد دوم ۵۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء سے مار ہی ہے جو حالت ٹھیک نہیں۔بعض جگہ بڑے بڑے زمیندار بھی ہیں مگر آمد نہیں ہوتی اس لئے یہ تجویز قابل عمل نہیں۔تاہم اب ایک سال کے لئے اس کا تجربہ کر لیا جائے اور محکمہ ایک سال کے بعد رپورٹ کرے کہ اس پر کہاں تک عمل ہوا ہے۔“ اختتامی تقریر دو تیسرا دن مشاورت کے آخری دن بجٹ پر عام بحث مکمل ہونے کے بعد حضور نے ابتداء چند باتیں بجٹ کے متعلق ارشاد فرما ئیں اور پھر متفرق امور کے بارہ میں احباب جماعت کو اپنی بیش قیمت ہدایات سے نوازا۔حضور نے فرمایا :- چونکہ بجٹ پر عام بحث ہو چکی ہے اس لئے میں یہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ جو دوست اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ عموماً دو قسم کے ہوتے ہیں۔بعض کی غرض تو صرف اتنی ہوتی ہے کہ ہماری توجہ کسی خاص امر کی طرف مبذول کرا دی جائے۔ان کی یہ خواہش نہیں ہوتی کہ انکی تجویز پر فوری طور پر عمل بھی کیا جائے مگر بعض کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جو تجویز وہ پیش کر رہے ہیں اُس پر ضرور عمل کیا جائے۔اگر اُن کی تجویز پر عمل نہ ہو تو عام مجالس وضع قوانین میں یہ طریق ہوتا ہے کہ ایسے موقعوں پر کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم اس بجٹ کو رڈ کرتے ہیں یا اس میں سے اس قدر کمی کی تجویز پیش کرتے ہیں اور یہ در حقیقت ناراضگی کا ایک رنگ ہوتا ہے جو اسلامی اصول کے ماتحت جائز نہیں۔ہم نے ایک کام کرنا ہے اس میں خفگی یا ناراضگی کا کوئی ایسا پہلو اختیار کرنا جس سے کام بند ہو جائے یا اس کو نقصان پہنچے ناجائز ہے۔لیکن بہر حال دوستوں کو تجاویز پیش کرتے وقت یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ انہیں بجٹ کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسے پاس کیا جائے یا نہ کیا جائے۔سوال صرف اتنا ہے کہ آیا بجٹ میں کوئی تبدیلی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ میں نے جیسا کہ بتایا ہے دوستوں کی بجٹ پر رائے زنی کرنے سے مختلف غرضیں ہو سکتی ہیں۔بعض کی یہ خواہش نہیں ہوگی کہ اُن کی تجویز پر رائے لی جائے اُن کا مقصد صرف توجہ دلانا ہے اور ممکن ہے بعض کا مقصد یہ ہو کہ اُن کی تجویز پر ضرور عمل کیا جائے اس لئے بجائے عام بحث کے جو دوست بجٹ کے