خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 541

خطابات شوری جلد دوم ۵۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ضائع کرنے والی بات ہے۔ایک دوست نے کہا ہے کہ خبریں چار روز کی باسی ہوتی ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے بعض دوست ایسی غلط باتیں کہنے میں بھی تامل نہیں کرتے۔ممکن ہے کوئی ضروری خبر ایک دن رہ جائے تو بعد میں بھی دے دی جائے۔اگر کسی ایسی خبر کی بناء پر خبروں کو باسی کہا گیا ہے تو ایسی باسی خبر میں تورسول اور شیشمین میں بھی ہوتی ہیں۔ورنہ یوں میں نے دیکھا ہے کہ الفضل کی خبریں سول کے ساتھ ہوتی ہیں۔ایک خبر میں صبح الفضل میں پڑھ لیتا ہوں تو بعد میں سول آتا ہے تو اس میں بھی وہی ہوتی ہے۔(آنریبل سر ظفر اللہ خان صاحب نے بھی اس بات کی تائید آہستہ سے کی ) پس یہ بالکل غلط ہے کہ چار چار روز کی باسی خبریں اس میں ہوتی ہیں۔خبریں سول کے ساتھ ہوتی ہیں بلکہ بعض لوگ تو یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ یہ خبریں کہیں سے چوری کی جاتی ہیں۔ایک اور بات بھی مدنظر چاہئے اور وہ یہ کہ یہاں جو خبر آج شائع ہو وہ کلکتہ، بمبئی اور دہلی وغیرہ شہروں میں تو دو یا تین روز بعد ہی پہنچ سکتی ہے۔اور اگر اعتراض کرنے والے نے اس بات کو مد نظر نہیں رکھا کہ آخر اخبار پہنچنے میں بھی تو وقت لگتا ہے تو یہ بھی اس کی غلطی ہے۔اور اگر اس بات کا خیال نہ رکھا جائے تو سول اور سٹیٹسمین کی خبروں کو بھی چار روز کی باسی کہنا پڑے گا کیونکہ ان کو پہنچنے میں بھی کچھ وقت لگتا ہے۔الفضل والوں کے پاس کوئی ہوائی جہاز تو ہیں نہیں کہ اُسی روز اخبار کالا باغ پہنچا دیں۔انسان کو چاہئے کہ بات کرنے سے پہلے دیکھ لے کہ اس میں معقولیت کہاں تک ہے۔یہ صحیح ہے کہ سول اور دوسرے اخبار جو لاہور سے نکلتے ہیں دوسرے شہروں میں پہلے پہنچ جاتے ہیں۔مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور سے صبح سویرے گاڑیاں چلی جاتی ہیں۔اور الفضل وہاں بعد میں پہنچتا ہے۔اگر تو گاڑیاں شام کو چلیں تو الفضل بھی ان کے ساتھ پہنچ سکتا ہے مگر وہ تو لاہور سے صبح سویرے پوسٹ ہو جاتے ہیں اور الفضل شام کو لاہور پہنچتا ہے، ایسی صورت میں دونوں کا مقابلہ کس طرح ہوسکتا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزانہ اخبار کی ضرورت نہیں ہفتہ وار ہی کافی ہے۔اس کے متعلق میں یہ کہوں گا کہ پانچ وقت نمازوں کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نمازیں کیوں فرض کر دیں جبکہ ہر نماز میں وہی بات دہرائی جاتی ہے، ساری عمر میں ایک ہی نماز کافی تھی۔ہر دو تین گھنٹے کے بعد نماز کا حکم کیوں دے دیا گیا ؟ پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے نماز