خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 535
خطابات شوری جلد دوم ۵۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ہمیں اس سوال پر غور کرنا چاہئے کہ اگر ہماری جماعت میں لڑکے زیادہ اور لڑکیاں کم ہوں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ مگر اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی ضرور دیکھنا چاہئے کہ اگر باہر سے ہم لڑکیاں لائیں تو اس کی کیا صورت ہوگی؟ اور اگر یہ ثابت ہو کہ لانے میں مضرت زیادہ ہے تو ہمیں یہ دروازہ نہ کھولنا چاہئے۔ناظر صاحب امور عامہ نے جو اعداد پیش کئے ہیں اُن کے ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ مقابلہ کی کئی اور نسبتیں بھی ہوتی ہیں۔اس زمانہ میں لڑکوں کی ایک خاصی تعداد ایسی ہوتی ہے جو شادی کے قابل نہیں ہوتی اور اس لئے ہمیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ لڑکوں میں ایسا حصہ کتنا ہے۔بعض اور باتیں اور اخلاق بھی مدنظر رکھنے ضروری ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس نسبت میں فرق پڑ جاتا ہے۔اور جب تک ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مردم شماری نہ کرائی جائے کوئی اعداد قابل اعتبار نہیں سمجھے جا سکتے۔لیکن اگر اس بات کو مد نظر نہ بھی رکھا جائے تو بھی یہاں یہ سوال زیر بحث نہیں کہ لڑکیاں لینی ناجائز ہیں یا جائز۔بلکہ صرف یہ سوال ہے کہ جو احمدی کسی غیر احمدی لڑکی سے رشتہ کرنا چاہے وہ مرکز کی اجازت سے ایسا کرے۔گویا محکمہ اس کی ضرورت کو تو تسلیم کرتا ہے مگر یہ چاہتا ہے کہ اس امر کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہو کہ زید یا بکر کو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔اُس نے اِس کی ضرورت کو تو تسلیم کر لیا ہے ورنہ یہ بات پیش کی جاتی کہ غیر احمدی لڑکی سے شادی قطعا روک دی جائے۔اجازت سے کرنے کے معنی سوائے اس کے کچھ نہیں ہیں کہ وہ تسلیم کرتا ہے کہ بعض صورتوں میں اجازت ہونی چاہئے۔مقصد صرف یہ ہے کہ وہ دیکھ سکے کہ آیا زید اگر غیر احمدی لڑکی سے شادی کرے تو یہ سلسلہ کے لئے مفید ہوگا یا مضر۔ہو سکتا ہے ایک شخص ایسا ہو جس کے ماں باپ بھی غیر احمدی ہیں یا کمزور احمدی ہیں وہ خود بھی کمزور ہے۔اگر اس کی شادی بھی غیر احمد یوں میں ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ خاندان بالکل احمدیت سے کٹ جائے گا یا کم سے کم اس لڑکے کے لئے تو خطرہ بہت بڑھ جائے گا۔اور ایک اور ہے جو خود بھی احمدیت میں مضبوط ہے اور اُس کے ماں باپ بھی پکے احمدی ہیں اگر وہ غیر احمدی لڑکی سے شادی کرے تو بہت حد تک امید کی جاسکتی ہے کہ وہ بھی احمدی ہو جائے گی۔اب محکمہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے صرف یہ اختیار ہو کہ رشتہ کرنے والے کے اپنے نیز اس کے خاندان کے حالات کو دیکھتے