خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 529

۵۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم کے رہنے والے تھے مگر احادیث کے جمع کرنے کے لئے مصر، شام اور عرب میں گئے اور اس طرح یہ کام کیا۔اسی طرح دوسرے محدثین نے بھی ایک ایک حدیث کے لئے پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار میل کے سفر کئے۔سپین کا رہنے والا ایک شخص صرف ایک حدیث سُننے کے لئے تین ہزار میل کا سفر کر کے بغداد پہنچا تھا۔وہ راوی جس سے وہ حدیث سُننے کے لئے آیا چوتھا یا پانچواں تھا مگر پھر بھی اس کے دل میں یہ شوق تھا کہ براہ راست اس سے سُنوں۔پس دین کی باتوں کے لئے بڑے شوق کی ضرورت ہے اور یہ شوق نہ ہونے کی وجہ سے مسائل میں غور کرنے کی عادت بہت کم ہو گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں آیت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنت انت الرقيب عَلَيْهِمْ پر بہت زور دیا ہے اور اسے آپ نے اصل آیت قرار دیا ہے مگر میں نے دیکھا ہے غیر احمدیوں سے بحث کرتے وقت ہمارے بعض علماء عام طور پر اس آیت پر زور نہیں دیتے اور اس حصہ کو بہت کم لیتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہے کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں نہیں بگڑے بلکہ بگاڑ آپ کی وفات کے بعد ہوا ہے۔اب میرے زور دینے پر ہمارے نو جوان مبلغین میں اس طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے مگر پہلے نہ تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل میں غور کرنے کی عادت نہیں رہی۔اگر یہ عادت ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے مسائل اخذ کئے جا سکتے ہیں اور فقہاء بڑے بڑے مسائل کو چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی حل کرتے ہیں اس لئے آج ہم جو باتیں کریں اور جو فیصلہ کریں چاہئے کہ بہت سوچ سمجھ کر کریں کیونکہ بعد میں آنے والے فقہاء انہیں سے بڑے بڑے مسائل حل کریں گے۔ہماری اس وقت کی حالت سورج کی ہے اور جو بعد میں آئیں گے اُن کی حالت چاند کی ہوگی جو سورج سے روشنی لیتا ہے اور ظاہر ہے کہ سورج کی روشنی اور چاند کی روشنی میں بڑا فرق ہے۔پس فیصلے کرتے وقت دوستوں کو چاہئے کہ تقویٰ کو مدنظر رکھیں اور خشیت اللہ پیدا ایک نقص غیر سنجیدگی ایک اور نقص میں نے دیکھا ہے بعض لوگ آیات قرآنی جنسی سے پڑھ دیتے ہیں۔بعض روایات اور احادیث کو ہنسی میں بیان کر دیتے ہیں۔یہ بہت بُری عادت ہے اور اسے مٹا دینا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام