خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 527

۵۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء خطابات شوری جلد دوم کے مکان سے پچاس ساٹھ گز پرے جنوب کی طرف ہم نے مسٹر کنگ ڈپٹی کمشنر سے باتیں کیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فنانشل کمشنر سے ملنے کے متعلق باتیں کیں۔مولوی صاحب کے مکان کے پاس جو کھیلوں کا میدان ہے وہاں کمشنر کا ڈیرہ لگایا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت ساتھ نہ تھے۔پھر جب آپ ملاقات کے لئے تشریف لائے تو پانچ سات آدمی آپ کے ساتھ تھے۔صحیح واقعہ تو اس طرح ہے مگر میاں مہر اللہ صاحب نے اسے غلط رنگ میں پیش کر دیا۔رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذمہ داریاں اس کی وجہ یہی ہے کہ آجکل حافظہ تیز نہیں رہے اور اس وجہ سے ہم لوگوں کے لئے جو صحابہ ہیں اور بھی بہت ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔تابعین کا درجہ بھی بڑا ہے۔تفسیر اور دینی لحاظ سے تابعین کا بھی اتنا ہی اثر ہے جتنا صحابہ کا۔جن لوگوں نے مامور کی بعثت کا قریب ترین زمانہ دیکھا ہو اُن کی آواز بڑی وقیع سمجھی جاتی ہے اس لئے ہمارا کسی بات پر غور و خوض کرنا بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ ہم جن باتوں پر غور کرتے ہیں وہ چھوٹی یا معمولی ہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ ہماری آج کی باتوں سے آئندہ نسلیں بڑے مسائل پر استدلال اور استنباط کریں گی جس طرح آج صحابہ کے اقوال سے استنباط کیا جاتا ہے۔اصولی تعلیم تو قرآن کریم میں موجود ہے مگر جب تک اس کی تشریح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال میں نہ ملے تسلی نہیں ہوتی۔ایک صحابی کی روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کی۔کدو کا شوربہ پکا تھا، آپ اس میں ہاتھ ڈال ڈال کر کڈو کے قتلے تلاش کرتے تھے اور کھاتے تھے ، بعض صوفیاء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ کہو کا شور بہ اچھی چیز نہیں اور بعض اس کے خلاف استدلال کرتے ہیں اور اس سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ گویا آپ نے خواہش اور رغبت کا اظہار کیا۔اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک گھر میں دعوت تھی۔آپ تشریف لے گئے اس گھر میں کھجور اور گوشت کے ہار لٹکے ہوئے تھے آپ نے اُتار کر کھانے شروع کر دیئے۔اس سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قسم قسم کے کھانے جائز ہیں۔تو ان معمولی معمولی باتوں سے نسلیں بڑے بڑے مسائل مستنبط کرتی