خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 523

خطابات شوری جلد دوم ۵۲۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ہی خشیت اللہ سے کام لینے کا ہے۔بات کرنے سے پہلے بلکہ کھڑا ہونے کا ارادہ کرتے وقت ان کے دل میں یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہم خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئی بار ایک بات سنی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری حالت اس سے بھی نازک تر ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ بارش کا دن تھا زور کی بارش ہو رہی تھی۔امام ابوحنیفہ گھر سے نکلے تو دیکھا ایک لڑکا بھاگتا ہوا جا رہا ہے۔آپ نے اسے کہا میاں بچے ! ذرا سنبھل کر چلو ایسا نہ ہو گر جاؤ۔اس نے کہا امام صاحب میرا کیا ہے آپ سنبھل کر چلئے۔کیونکہ اگر میں گرا تو کیا ہے خود ہی کروں گا مگر آپ گرے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ گریں گے۔امام ابو حنیفہ اور ایسے ہی دوسرے بزرگوں کی شہرت بہت ہے اس لئے لوگ ان کو بہت بڑا سمجھتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ ظاہری علوم کے لحاظ سے آپ لوگ ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے باطنی حیثیت کا۔اور اس لحاظ سے وہ آپ لوگوں کے مقابلہ پر ہزارواں حصہ بھی نہیں ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ ظاہری علم عام طور پر صحابہ کو بھی اتنا حاصل نہ تھا جتنا امام ابو حنیفہ کو تھا بلکہ فلسفہ دین اور تفقہ فی الدین میں بھی امام ابو حنیفہ کا علم زیادہ تھا اور سوائے چند ایک صحابہ مثلاً حضرت ابو بکر، عبد اللہ بن عباس وغیرہ کے عام طور پر صحابہ سے ابو حنیفہ کا علم بڑھا ہوا تھا مگر پھر بھی باطنی حیثیت سے صحابہ کا جو مقام ہے وہ ابوحنیفہ کا نہیں۔صحابہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق تھا۔انہوں نے براہ راست آپ کی باتیں سنیں اور پھر ان کو دوسروں تک پہنچایا اور اس وجہ سے ان کا مقام بہت بلند ہے اور آج بھی اگر ایک طرف چھوٹے سے چھوٹے صحابی کا کوئی عمل ہمارے سامنے ہو اور اس کے بالمقابل ابو حنیفہ کا عمل ہو تو جب تک بڑے ہی زبر دست دلائل سے ابو حنیفہ کے عمل کی تائید نہ ہوتی ہو ہم اس چھوٹے سے چھوٹے صحابی کے عمل پر اسے مقدم نہ سمجھیں گے حالانکہ ہوسکتا ہے کہ ظاہری علوم کے لحاظ سے وہ صحابی امام ابوحنیفہ کی پچاس سال شاگردی کر سکتا ہو مگر اس قدر تفاوت کے باوجو د سوائے اُن حنفیوں کے جنہوں نے امام ابو حنیفہ کو خدا کا درجہ دے رکھا ہے اس صحابی کے فعل کو امام صاحب کے فعل پر ترجیح دی جائے گی۔