خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 522

خطابات شوری جلد دوم ۵۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء ملاقات کر لیتے یا اُن کو کل کا کوئی وقت دے دیا جاتا۔اس تأخیر میں دوستوں کا اتنا قصور نہیں جتنا دفتر والوں کا ہے۔ملاقات کرنے والے دوستوں میں سے کسی نے سوائے ایک کے مقررہ وقت سے زیادہ نہیں لیا اور جس دوست نے زیادہ وقت لیا اُنہوں نے بھی اس لئے کہ دفتر والوں نے وقت ختم ہونے کی گھنٹی نہیں بجائی ، کم سے کم میں نے نہیں سنی۔چاہئے تھا کہ دفتر والے ملاقاتیں ساڑھے دس بجے تک ختم کر دیتے ، باقی ملاقاتیں رات کو ہو سکتی تھیں۔ہمیں کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ اوقات مقررہ کی پابندی کریں۔میں تو مجبور ہوں اور دفتر والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہوں۔ملاقاتیں ایک کے بعد دوسری ہوتی جاتیں ہیں اور میں گھڑی تک نہیں دیکھ سکتا اور ایسا سلسلہ ہوتا ہے کہ سانس لینے کی فرصت نہیں ملتی اس لئے دفتر والوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔منتظمین کا ایک فرض اس کے بعد میں ایک بات کی طرف منتظمین و توجہ دلانا چاہتا ہوں جو میں نے ابھی دیکھی ہے۔جب میں آرہا تھا تو دیکھا کہ میرا ایک بچہ دروازہ پر آیا۔منتظم نے پہلے تو اسے روکا مگر پھر مجھے دیکھ کر اُسے اندر جانے کی اجازت دے دی یہ درست طریق نہیں۔چاہئے تھا کہ میرے بچوں کو بھی ٹکٹ دے دیتے جیسا کہ دوسروں کو دیئے جاتے ہیں۔تا ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا کہ ہم بھی دوسروں کی طرح ایک نظام کے پابند ہیں بجائے اس احساس کے کہ چونکہ ہمارا باپ اس مجلس کا صدر ہے ہمیں یہ حق ہے کہ بغیر ٹکٹ کے اندر جاسکیں۔اس طرح ان کو اندر آنے دینا میرے نزدیک ان کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں بلکہ بدسلوکی ہے۔اور یہ ان کے اخلاق کو بگاڑنے والی بات ہے کیونکہ اس سے قانون شکنی کی عادت ان میں پیدا ہو سکتی ہے۔اور یہ روح پیدا نہیں ہوسکتی کہ ہم بھی قانون کے پابند ہیں اور اسے توڑ نہیں سکتے۔خشیت اللہ کا وقت اس کے بعد میں دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں مجھے شدید کھانسی رہی ہے اور دمہ کی صورت پیدا ہوگئی تھی۔دس بارہ روز سے افاقہ تھا مگر آج پھر شدید کھانسی ہوگئی ہے۔کل بھی تھی اس لئے میں زیادہ بول نہیں سکتا اور آج میں ابھی سے تکلیف محسوس کر رہا ہوں مگر با وجود اس کے میں نے مناسب سمجھا کہ دوستوں کو توجہ دلاؤں کہ ان کی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور یہ وقت بہت