خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 513

خطابات شوری جلد دوم ۵۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء افتتاحی تقریر تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد افتتاحی تقریر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا : - نمائندگان شورای کی حد بندی ”جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اس سال نمائندگان کے انتخاب کو بعض خاص شرائط عائد کر کے محدود کر دیا گیا ہے یعنی جماعتوں کو اب اس طرح کی آزادی حاصل نہیں رہی کہ وہ اپنی جماعتوں میں سے جتنے نمائندے چاہیں بھجوا د میں بلکہ حد بندی کر دی گئی ہے اور جوں جوں ہماری جماعت ترقی کرے گی اس کے ساتھ ساتھ یہ پابندیاں شاید اور بھی بڑھانی پڑیں گی۔بلکہ شاید کیا یقیناً ایسا وقت آئے گا جب بجائے جماعتوں کے مختلف اضلاع بلکہ صوبوں سے نمائندے منتخب کرنے پڑیں گے کیونکہ کوئی مجلس شوری ایسی وسیع نہیں ہو سکتی کہ ہزاروں لاکھوں آدمی اس میں بلائے جاسکیں۔جب خدا ہماری جماعت کو ساری دُنیا میں پھیلا دے گا تو اُس وقت ضلعوں اور صوبوں بلکہ مختلف ملکوں کے نمائندے ہی لئے جائیں گے ہر جماعت سے نمائندہ نہیں لیا جا سکے گا۔پس اس پابندی پر جماعتوں کو بُرا نہیں منانا چاہئے۔یہ ایک مجبوری ہے اور یہ مجبوری اب بڑھتی ہی جائے گی لیکن بہر حال جب تک چھوٹی جماعتوں کو اپنے نمائندے بھیجنے کا حق حاصل ہے اُس وقت تک انہیں چاہئے کہ وہ اپنے اس حق سے فائدہ اُٹھا ئیں اور مجلس شوری کے موقع پر بہترین نمائندے منتخب کر کے بھیجا کریں۔مگر میں دیکھتا ہوں جہاں ایک حصہ مخلصین کا ایسا ہے جس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اُس کے نمائندے قابل ہوں وہاں بعض جماعتیں ایسی ہیں جن کے نمائندے مجبوری کے نمائندے ہوتے ہیں یعنی اُن کے دلوں میں مجلس شوری کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔وہ صرف یہ پوچھ لیتے ہیں کہ کسی کا قادیان جانے کا ارادہ تو نہیں؟ اور جب کوئی شخص کہہ دے کہ میرا ارادہ قادیان جانے کا ہے کیونکہ وہاں میں اپنا مکان بنانا چاہتا ہوں یا مجھے کوئی اور کام ہے تو اُسی کو اپنا نمائندہ بنا دیتے ہیں۔یا مثلاً کسی نے کہا کہ میں لا ہور اور امرتسر اپنے کسی تجارتی کام کے سلسلہ میں جارہا ہوں تو اُسے ہی کہہ دیتے ہیں کہ مہربانی کر کے قادیان سے بھی ہوتے آنا اور وہاں مجلس شوری میں ہمارا نمائندہ بن جانا۔بلکہ بعض نے تو نمائندگی کو ایسا ہی کا م سمجھ لیا ہے جیسے مشہور ہے کسی بنیے نے سردی کے دنوں میں دوسرے کے نہانے کو اپنا نہا نا فرض کر لیا تھا۔وہ