خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 37
خطابات شوری جلد دوم ۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء طرح گرم ہو گئیں۔میں اپنی اس کمزوری کی وجہ سے کہ اگر کوئی مجھے کام کہے تو مجھ میں اس سے انکار کرنے کی ہمت کم ہے، گلاس اور پیسے لے کر باہر تو چلا گیا مگر میرا سارا جسم کانپ رہا تھا کیونکہ مجھے اس قسم کے کام کی عادت نہ تھی۔غرض عادت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ان عادتوں کو توڑ کر اپنے آپ کو اُس مقام پر لے جائیں جہاں کوئی بھی کام کرنے میں مشکل نہ پیش آئے۔آج اگر اس قسم کی عادت نہ ڈالیں تو ممکن ہے کہ وقت پڑنے پر غدار ثابت ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ مٹی کھود نے کے لئے جب میں کھودنے نے گدال پکڑی تو کئی احمدی اَسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللہ کہتے ہوئے آگے بڑھے کہ گدال مجھ سے لے لیں۔اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اس حالت میں مجھے دیکھنے کا انہیں موقع نہ ملا تھا ور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت ایسا نہ ہوتا تھا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود دست مبارک میں گدال پکڑی اور چلائی۔اب اگر کوئی ساری دنیا کی حکومت کے تخت پر بھی بیٹھ جائے اور کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کام کیا ہے وہ معیوب ہے تو وہ مسلمان نہیں کہلا سکتا۔(۹) آخری چیز دُعا ہے جس کے ذریعہ آپ لوگ مجھ سے تعاون کر سکتے ہیں اور ان دنوں جبکہ میں نے ہر پیر کو روزہ رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے دعا پر خاص طور پر زور دینا چاہئے کیونکہ ہمارا آخری ہتھیار دعا ہی ہے۔اِس سے ہم وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں جو کروڑوں روپیہ خرچ کر کے حاصل نہیں کر سکتے ہیں اور لوگ اس طاقت کو محسوس کر سکتے ہیں۔ابھی ایک مخالف کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ وہ کسی احمدی سے کہتا تھا کہ پچھلے سال تم نے روزے رکھے تو کوئٹہ تباہ ہوا تھا اب کے کیا کرانا ہے؟ گو اُس کی نیت جنسی کی ہو مگر حق یہ ہے کہ دعا اپنے اندر بہت بڑی طاقت رکھتی ہے اور ہمیں یہی دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اُن لوگوں کو جو ہمارے دشمن ہیں ہدایت دے لیکن اگر ان کے لئے ہدایت مقدر نہیں تو انہیں دین کے رستہ میں روک نہ بننے دے اور اس روک کو ہٹا دے۔مگر یہ صرف زبان سے کہہ دینا کافی نہیں اس کے لئے دلوں میں اخلاص اور جوش اور یقین ہونا چاہئے کہ دعا ایک بہت زبر دست اور بڑا کارآمد ہتھیار ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی دو ہی روزے ہوئے ہیں کہ دنیا میں بہت بڑے تغیرات ہونے کے سامان پیدا ہو