خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 504
خطابات شوری جلد دوم ย ۵۰۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء لڑائی ہوگئی۔حضرت ابو بکر حق پر تھے اور حضرت عمرؓ اس لڑائی میں حق بجانب نہیں تھے مگر حضرت عمر چونکہ تیز طبیعت انسان تھے اس لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب وہاں سے ہٹنا چاہا تو حضرت عمرؓ نے یہ سمجھا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کرنے چلے ہیں۔چنانچہ انہوں نے زور سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دامن کھینچا کہ ٹھہرمیں بات تو سنیں۔مگر اس جھٹکے سے حضرت ابوبکر" کا کرتہ پھٹ گیا اور وہ وہاں سے چل پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال آیا کہ وہ ضرور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کرنے گئے ہیں حالانکہ وہ شکایت کرنے نہیں بلکہ اپنے گھر گئے تھے مگر بہر حال اس خیال کے آنے پر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔اتنے میں کسی نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اطلاع دی کہ حضرت عمر نے آپ پر ظلم بھی کیا ہے اور پھر وہ آپ کی شکایت کرنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی پہنچ گئے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خیال آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ناراض ہو گئے تو یہ اچھا نہیں ہوگا چنانچہ وہ بھی جلدی جلدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان کی طرف چل پڑے۔جب دروازے کے قریب پہنچے تو چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پہلے پہنچ چکے تھے اس لئے بات شروع تھی اور اس دوران میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی ندامت پیدا ہو چکی تھی۔چنانچہ وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! غصہ میں مجھے خیال نہ رہا اور میں نے حضرت ابوبکر پر اظہار ناراضگی کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا اے لوگو! تم مجھے اور ابو بکر کو تکلیف دینے سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟ جب تم لوگ میری مخالفت کر رہے تھے تو اُس وقت ابوبکڑ ہی تھا جو مجھ پر ایمان لایا اور میں نے کبھی کوئی نصیحت نہیں کی جو ابو بکڑ نے نہ مانی ہو یا جس کے متعلق اس کے دل میں کوئی کبھی پائی گئی ہو بلکہ جب بھی میں نے کچھ کہا اس نے اسے مانا اور تسلیم کیا۔پس کیا تم مجھے اور اسے دکھ دینے سے باز نہیں آؤ گے؟ آپ یہ الفاظ فرما ہی رہے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور انہوں نے پہنچتے ہی اپنی اس نیکی کا تازہ بتازہ ثبوت بہم پہنچا دیا جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ذکر فرما رہے تھے۔چنانچہ وہ آئے تو اس نیت سے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کریں کہ عمر نے ان پر ظلم کیا ہے مگر