خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 491

خطابات شوری جلد دوم ۴۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دُنیا میں ایک ایسا انقلاب پیدا کر دے گا جسے دیکھ کر اگلے لوگ حیران رہ جائیں گے اور خواہ کتنی عظیم الشان روکیں درمیان میں حائل ہوں اللہ تعالیٰ ان کو دور کر کے اسلام کو کمال تک پہنچائے گا اور ہمیشہ آسمان سے ان کے لئے برکتیں نازل ہوں گی مگر یہ تغیرات اپنے نفوس کی اصلاح کئے بغیر نہیں ہو سکتے۔محض ریزولیوشن پاس کر دینے سے کچھ نہیں بن سکتا جب تک ہم یہ حقیقت ذہن نشین نہ کر لیں کہ آج ہم جو کچھ کہتے اور کرتے ہیں انہی کا پھل ہمیں آئندہ زندگی میں ملے گا۔اگر آج ہمارے اعمال ناقص اور ہمارے ارادے نا تمام ہیں تو ان کے پھل بھی کبھی شیریں پیدا نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر ہماری ہمتیں بلند اور ہمارے اعمال میں خلوص ہو تو ان کے پھل بھی شیریں پیدا ہوں گے۔پس ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ہم آج جو کچھ کر رہے ہیں ، انہیں کا پھل ہمیں اگلی زندگی میں ملنے والا ہے۔اگر ہم اچھے کام کریں گے تو پھل بھی اچھے ہوں گے اور اگر ہم بُرے کام کریں گے تو پھل بھی بُرے ہوں گے۔ایک نکتہ یہی وہ نکتہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی ایک آیت سے استدلال کرتے ہوئے بیان فرمایا اور جو انسان کی عملی زندگی میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنے والا ہے۔وہ نکتہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا یہ ہے کہ قرآن کریم کے پہلے پارہ میں ہی آتا ہے کہ مومن جب بہشت میں جائیں گے تو وہاں انہیں کھانے کے لئے پھل ملیں گے۔ان پھلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے محتما رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَاتُوايه متشابهات کہ جب کبھی پھلوں میں سے کوئی پھل ان کے پاس بطور رزق لایا جائے گا تو وہ متشابہہ ہو گا۔جسے دیکھ کر وہ کہیں گے هذا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ کہ یہ پھل تو ہمیں بھی مل چکا ہے۔مفسرین نے اس کے یہ معنے گئے ہیں کہ جنتیوں کو ایک ہی پھل بار بار لا کر دیا جائے گا اور چونکہ بار بار ایک ہی پھل ان کے پاس لایا جائے گا اور اس وجہ سے وہ پھل آپس میں متشابہہ ہوں گے اس لئے وہ کہیں گے هذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ یہ پھل تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کھا چکے ہیں۔گویا وہ یہ انعام قرار دیتے ہیں کہ اگر جنتیوں کو ایک دفعہ آم کھانے کے لئے ملا تو دوسری دفعہ پھر وہی آم ان کے سامنے پیش کیا