خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 488
خطابات شوری جلد دوم ۴۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہیں تو ہمارا مدعا ہمیں حاصل ہو سکتا ہے اور اگر ہم اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلتے تو اپنے مقصد اور مدعا میں ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس اہم کام کی طرف توجہ کریں۔وقت آ رہا ہے کہ پھر ان کے لئے اس کام کا وقت نہیں رہے گا۔دُنیا میں عظیم الشان تغیرات پیدا ہو رہے ہیں اور بہت بڑا انقلاب ہے جو رونما ہونے والا ہے۔پس عملی طور پر ہمیں اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرنی چاہئے کہ ہم اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔سچائی پر قائم رہنے والے ہوں، خدا اور اُس کے رسول سے محبت رکھنے والے ہوں اور اس طرح اپنے اعمال میں ایک نیک تغیر پیدا کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔اور علمی طور پر ہمارا فرض ہے کہ وہ خزائن جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائے ہیں زیادہ سے زیادہ اپنی جماعت کے دوستوں کو دیں اور اسی طرح ان خزائن کو دوسرے لوگوں میں بھی تقسیم کریں۔دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا فرض یہی اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ میں دے دیں نہیں کہ ہم اپنے آپ کو ایک تیز تلوار کی مانند بنا ئیں بلکہ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیں کیونکہ اگر تلوار بھی تیز ہو اور تلوار چلانے والا بھی ماہر ہو تو اس تلوار کا وار کوئی روک نہیں سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی سپاہی تھا جسے تلوار چلانے کی ایسی مشق تھی کہ وہ گھوڑے کو کھڑا کر کے ایک ہی ضرب میں اُس کے چاروں پاؤں کاٹ دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ شہزادے نے اُسے ایک ہی وار میں گھوڑے کے چاروں پاؤں کاٹتے دیکھا تو وہ سپاہی کے پیچھے پڑ گیا اور کہنے لگا یہ تلوار مجھے دے دو مگر سپاہی نے وہ تلوار نہ دی۔شہزادہ نے بادشاہ سے شکایت کر دی کہ فلاں سپاہی سے میں نے اُس کی تلوار مانگی تھی مگر وہ مجھے دیتا نہیں۔بادشاہ نے اُس سپا ہی کو بُلا کر ڈانٹا اور کہا کہ تم بڑے نمک حرام ہو میرے بیٹے نے تم سے تلوار مانگی اور تم نے وہ تلوار اِسے نہیں دی۔سپاہی نے کہا بہت اچھا یہ تلوار حاضر ہے لے لیجئے۔چنانچہ بادشاہ نے وہ تلوار لے کر شہزادے کو دے دی۔شہزادہ خوشی خوشی اُس تلوار کو لے کر ایک گھوڑے کے قریب گیا اور زور سے اُس کے پاؤں پر ماری مگر بجائے چاروں پاؤں کٹنے کے گھوڑے کے پاؤں پر معمولی نشان بھی نہ پڑا۔یہ دیکھ کر پھر وہ اپنے