خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 483
خطابات شوری جلد دوم ۴۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء عہد کرتے ہیں تو اُس کے پورا کرنے میں بھی سچائی سے کام نہیں لیتے۔اسی طرح وہ وقت کے پابند نہیں اور بغیر کسی قسم کی ضرورت کے وہ لغو باتیں کرنے کے عادی ہیں۔چنانچہ کسی مجلس میں بیٹھ کر دیکھ لو ایک زمیندار جو نہ فن لینڈ کو جانتا ہے، نہ روس سے واقف ہے، نہ جرمن کی حکومت کو سمجھتا ہے باتیں کرتے ہوئے کہہ دے گا کہ جرمن والے یہ چالا کی کر رہے ہیں، روس والے یہ چالا کی کر رہے ہیں اور فن لینڈ والے یہ چالا کی کر رہے ہیں۔وہ نہ جرمن کو جانتا ہے، نہ فن لینڈ کو جانتا ہے، نہ روس کو جانتا ہے، نہ اسے ان قوموں کے کیریکٹر کا علم ہوتا ہے، نہ تاریخی طور پر اسے ان کے متعلق کوئی واقفیت ہوتی ہے، نہ اسے حالات اور واقعات کا علم ہوتا ہے یونہی بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی قسم کی تحقیق سے کام لئے وہ کہتا چلا جائے گا کہ فلاں نے یہ چالا کی کی اور فلاں نے وہ چالا کی کی۔اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ جرح ہندوستان سے باہر بہت ہی کم ہے۔چنانچہ کسی وقت اگر تم مصری اخبار اٹھا کر دیکھ لو اور ساتھ ہندوستانی اخبار رکھ لو تو تمہیں ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق دکھائی دے گا۔ان کی جرح نہایت معقول اور شستہ ہوگی اور صاف معلوم ہو رہا ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے سوچ سمجھ کر لکھا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ کیا محرکات ہیں، کیا واقعات ہیں اور ان کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔گویا سارے پہلوؤں پر غور کر کے وہ ایک نتیجہ نکالتے ہیں۔چاہے وہ نتیجہ غلط ہو یا صحیح۔بہر حال ان کی تنقید سے یہ امر مترشح ہوئے بغیر نہیں رہتا کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر بات لکھی ہے اور یہ وصف ان کے ادنیٰ سے ادنی اخبار میں بھی پایا جاتا ہے مگر ہمارے ملک کے اخبارات کا بیشتر حصہ ایسا ہے کہ وہ کوئی ٹھوس بات نہیں لکھتے۔کوئی ایک بات ان کے ذہن میں آتی ہے اور اُسی پر رطب و یا بس لکھ دیتے ہیں۔یہ غور ہی نہیں کرتے کہ بڑے بڑے کاموں کے ہمیشہ بڑے بڑے محرکات اور اسباب ہوا کرتے ہیں اور جب تک وہ سمجھ میں نہ آجا ئیں صحیح نتیجہ نہیں نکل سکتا۔غرض ہندوستانی عام طور پر لغو باتیں کرتے ہیں اور اچھے اچھے سمجھ دار اس میں مبتلا پائے جاتے ہیں کئی دفعہ اخبارات میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں بڑا شخص فلاں جگہ جارہا ہے۔اس پر کئی لوگ مجھ سے ہی پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ وہاں کیوں جا رہا ہے؟ بھلا مجھے کیا پتہ کہ وہ وہاں کیوں جا رہا ہے۔غرض لغو طور پر وہ اپنا بھی وقت ضائع کرتے ہیں اور دوسروں