خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 482
خطابات شوری جلد دوم ۴۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء پر ناکام رہتے ہیں اور جن کی وجہ سے ہندوستان بدنام ہو رہا ہے۔اگر ہم ان نقائص سے اپنے آپ کو بچائیں اور اپنی نسلوں کو بھی ان سے محفوظ رکھیں تو نہ صرف اپنی ترقی کا سامان ہم مہیا کر سکتے ہیں بلکہ ہندوستان کی نیک نامی اور اس کی عزت و رفعت کا بھی موجب بن سکتے ہیں۔یہی ہندوستان تھا جو کبھی ساری دنیا کو راحت و آرام کے سامان مہیا کیا کرتا تھا اور ساری دنیا میں اس ملک سے کپڑا تیار ہو کر جایا کرتا تھا مگر اب جو حالت ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ہندوستان کے بعض نقائص کولمبس نے جب اپنے ملک سے باہر جانے کی کوشش کی تو اس کی اصل غرض یہ تھی کہ ہندوستان پہنچے اور یہاں کے مصالحہ جات اور کپڑے اپنے ملک میں لے جائے۔امریکہ کی دریافت ایک اتفاقی امر تھا۔وہ صرف اس لئے نکلا تھا کہ کسی طرح ہندوستان پہنچے اور یہاں کی مصنوعات سے اُس کا ملک فائدہ اٹھائے لیکن آج ہندوستان نہایت ہی گری ہوئی حالت میں ہے۔کیوں؟ یہ کہنا کہ انگریزوں نے ایسا کر دیا یہ کوئی جواب نہیں کیونکہ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انگریز کیوں آئے ؟ آخر ہمارے اندر ہی کوئی کمزوری تھی جس سے فائدہ اٹھا کر انگریز اس ملک پر حکمران ہو گئے۔ہندوستانی ۳۳ کروڑ ہیں اور بعض کانگرسی کہا کرتے ہیں کہ اگر ۳۳ کروڑ ہندوستانی تھوکیں تو ان کی ٹھوک سے ہی انگریز بہہ جائیں۔جولوگ ان میں سے غلیظ طبع ہیں وہ یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر ۳۳ کروڑ ہندوستانی پیشاب کریں تو تمام انگریز بہہ جائیں مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ ۳۳ کروڑ ہندوستانیوں کے تھوک اور پیشاب سے بہہ سکتے ہیں ان کو ہندوستانیوں نے تلوار سے کیوں نہ مار دیا۔آخر کوئی نہ کوئی نقائص تھے جن کی وجہ سے انگریز غلبہ پاگئے اور ہندوستانی محکوم ہو گئے۔چنانچہ اگر غور کر کے دیکھا جائے تو کئی قسم کے نقائص ہیں جو ہندوستانیوں میں پائے جاتے ہیں۔بعض تو ہندوستانی تمدن کے نقائص ہیں اور بعض ان کے کیریکٹر کے نقائص ہیں۔مثلاً ہندوستانی عام طور پر سچائی سے کام نہیں کرتے ، وعدے کرتے ہیں مگر انہیں پورا نہیں کرتے اور چونکہ وہ اپنے وعدوں کے پابند نہیں ہوتے اس لئے جب خدا سے کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اسے بھی پورا نہیں کرتے اور چونکہ وہ دنیوی معاملات میں سچائی کے پابند نہیں ہوتے اس لئے خدا تعالیٰ سے جب کوئی