خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 479
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء جشن خلافت کے بعد سستی ”میں نے جلسہ سالانہ کے بعد جماعت کے دوستوں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جب کبھی خاص زور لگا کر کوئی جماعت جشن مناتی اور اپنی خوشی کا اعلان کرتی ہے تو عام طور پر اس کے بعد اس میں کچھ نہ کچھ کمزوری پیدا ہو جایا کرتی ہے کیونکہ لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اُنہوں نے جو خوشی کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ جو کام انہیں کرنا چاہئے تھا وہ انہوں نے کر لیا۔حالانکہ خوشی کا مظاہرہ کسی کام کے ختم ہونے کی دلیل نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا ایک نیا اقرار ہوتا ہے۔اور میں نے جماعت کو ہوشیار کیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ جماعت میں سستی پیدا ہو جائے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے که با وجود میری اس تنبیہہ کے جماعت میں کئی صورتوں میں سُستی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔مثلاً ایک کام جو میں اپنے ہاتھ سے کیا کرتا ہوں وہ تحریک جدید کا ہے۔اس کے چندہ میں گزشتہ سالوں میں برابر ترقی ہوتی رہی ہے مگر اس دفعہ تحریک جدید کے وعدوں میں ہی تین چار ہزار روپیہ کی کمی ہوگئی ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے خوشی کا ایک مظاہرہ کر کے اور یہ خیال کر کے کہ خلافت پر پچپچیس سال کا عرصہ گزر گیا اور نبوت پر پچاس سال ہو چکے سمجھ لیا کہ گو یا دشمن بھی مارا گیا ہے۔ہماری پنجابی زبان میں بعض نہایت ہی لطیف مثالیں ہیں جو حقیقت کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہیں اور جن سے انسان اگر چاہے تو بہت کچھ سبق حاصل کر سکتا ہے۔چنانچہ انہیں مثالوں میں سے ایک مثال پنجابی زبان میں یہ ہے کہ آپے میں رتی بیجی آپے میرے بچے جیون“ یعنی بجائے اس کے کہ کوئی دوسرا دعا دے کہ تیرے بچے جیتے رہیں اور تو خوشی و خرمی کے ساتھ زندگی کے دن گزارے بعض لوگ آپ ہی آپ اپنے متعلق ایک نیک خواہش کا اظہار کر کے فرض کر لیتے ہیں کہ گویا انہیں جس چیز کی ضرورت تھی وہ انہیں حاصل ہو گئی اور اب انہیں کسی مزید جدوجہد کی ضرورت نہیں۔یہ ایک نہایت ہی غلط طریق ہوتا ہے جس کے نتائج بہت خطرناک نکلتے ہیں اور میں اس قسم کے جشنوں اور مظاہروں کا اسی لئے مخالف ہوں کہ کئی نادان ان باتوں کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ جو کام ان کے سپر د تھا وہ ہو گیا۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ایک قدم طے کر لیا بلکہ وہ یہ خیال