خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 34

۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء خطابات شوری جلد دوم (۶) عورتوں کی تعلیم و تربیت کا ہر جگہ انتظام کریں۔میں چاہتا ہوں کہ یہاں کے مدارس ایسا انتظام کریں کہ اسلامی تعلیم کی صحیح روح قائم کر دیں تا کہ عورتیں پردہ میں رہ کر اسلامی علوم کی عورتوں میں اشاعت کریں اور اسلام کی برتری ثابت کریں۔چونکہ دشمن کا اسلام پر ایک بڑا حملہ عورتوں کے ذریعہ ہو رہا ہے اس لئے جب تک ہماری عورتوں میں یہ روح نہ ہوگی کہ وہ اسلامی تعلیم پر عمل کرتی ہوئی دنیا کی عورتوں کو اسلام کی خوبیوں کی قائل کریں اُس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔میں یہ نہیں کہتا کہ عورتوں میں اخلاص نہیں ہوتا مگر عام طور پر صحیح تعلیم اخلاص کو بڑھا دیتی ہے۔تاہم میں نے ایک عورت دیکھی جس نے ایسا اخلاص دکھایا جو کسی تعلیم یافتہ عورت سے کم نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک عورت روتی ہوئی آپ کے پاس آئی اور آ کر کہا میرالڑ کا عیسائی ہو گیا ہے۔وہ لڑکا مسلول تھا مگر وہ عورت بار بار کہتی میں یہ نہیں چاہتی کہ یہ لڑکا بچ جائے بلکہ میں یہ چاہتی ہوں کہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے، پھر خواہ مر جائے۔میری اُس وقت دس بارہ سال کی عمر ہوگی مگر ابھی تک مجھے اُس کی شکل یاد ہے۔وہ لڑکا بھی کوئی ایسا ضدی تھا کہ بیماری کی حالت میں رات کو اُٹھ کر چوری بھاگ گیا۔جب اُس کی ماں کو معلوم ہوا تو وہ اکیلی اس کے پیچھے بھاگی ہوئی گئی اور بٹالہ کے قریب سے پکڑ کر لے آئی۔آخر اُس کی جدوجہد اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعانے اثر دکھایا اور وہ مسلمان ہو گیا۔پھر دوسرے تیسرے دن مر گیا۔وہ عورت آن پڑھ تھی مگر ایسی ہزار پڑھی ہوئی عورتیں اُس پر سے قربان کی جاسکتی ہیں جو اپنے مذہب اور اپنی اولاد سے اس قسم کی پاک محبت نہیں رکھتیں۔تو ایسی آن پڑھ عورتیں بھی ہوتی ہیں مگر عام طور پر تعلیم سے اخلاص بڑھ جاتا ہے۔پس ہر جگہ عورتوں کی تنظیم ہونی چاہئے اور لجنہ اماء اللہ قائم کی جائیں۔جہاں عالم مرد لیکچر دیں اور عورتوں کو اُن کے فرائض بتا ئیں۔اسلام کے خلاف جو اعتراضات کئے جاتے ہیں اُن کے جواب سکھائیں اور خدمت دین کی طرف توجہ دلائیں اور قربانی کی روح پیدا کریں۔(۷) سادہ زندگی بسر کرنے کا جو اصل ہے اُس پر کار بند ہونا بھی ضروری ہے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے ہماری جماعت کے آسودہ حال لوگ بھی اس پر عمل کر رہے ہیں اور کئی ایک