خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 473

خطابات شوری جلد دوم ۴۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ۔أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ۔میں نبی ہوں جھوٹا نہیں۔میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔تو بدر کے موقع پر صحابہؓ آپ کو پیچھے بٹھاتے ہیں اور آپ ان کی بات کو مان جاتے ہیں لیکن حنین کے مقام پر صحابہ جب چاہتے ہیں کہ آپ آگے نہ بڑھیں تو آپ ان کی درخواست کو رد کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں میں پیچھے نہیں ہٹوں گا بلکہ آگے بڑھوں گا۔اس لئے کہ بدر کے موقع پر صحابہ جان دینے کے لئے تیار تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ اب جب کہ ذمہ داری کو صحابہ کی طرف سے ادا کیا جا رہا ہے تو مجھے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں۔لیکن حنین کے موقع پر جب صحابہ بھاگ پڑے، بُزدلی کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض طبعی حالات کی وجہ سے، تو اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھا کہ اب گلیہ ذمہ داری مجھ پر ہے اور میرا فرض ہے کہ خواہ کوئی میرے ساتھ ہو یا نہ ہو میں آگے بڑھوں۔چنانچہ آپ نے فرمایا میرے گھوڑے کی باگ چھوڑ دو اور مجھے آگے بڑھنے دو۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ۔أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ تو جب بعض مومن کمزوری دکھاتے یا اپنے فرائض کی ادائیگی میں نستی سے کام لیتے ہیں تو جو سچا مومن اور مخلص ہوتا ہے خدا اس سے کہتا ہے کہ اے میرے بندے! اب سب بوجھ تجھ پر ڈال دیا گیا ہے آگے آ اور اس بوجھ کو اُٹھا کہ تیرے سوا اب اس بوجھ کو اُٹھانے والا کوئی نہیں رہا۔حضرت ابراھیم سے قربانی کرانے کی حکمت چنانچہ حضرت ابراھیم علیہ السلا سے ان کے اکلوتے بیٹے کی قربانی کرانے میں یہی حکمت پوشیدہ تھی۔یوں تو ساری دُنیا سے ہی قربانی کرائی جاتی ہے مگر حضرت ابراھیم علیہ السلام سے اکلوتے بیٹے کی قربانی کے مطالبہ کے یہی معنے تھے کہ اُس وقت دنیا میں ان کے علاوہ اور کوئی اکلوتے بیٹے کی قربانی کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔تب خدا نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے کہا کہ اُٹھ اور میری راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کر۔ورنہ واقعہ میں خدا کا یہ منشاء نہ تھا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کے ذریعہ ایک انسانی قربانی کرائی جائے۔اسلام میں انسانی قربانی جائز نہیں اور اسلام سے میری مراد صرف مذہب اسلام ہی