خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 472
خطابات شوری جلد دوم ۴۷۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہیں کہ اگر ہم تمام کے تمام اس جنگ میں مارے جائیں تو آپ ان اونٹنیوں پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں۔وہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو اخلاص میں ہم سے کم نہیں، مگر يَا رَسُول اللہ! انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جنگ ہونے والی ہے انہیں جب حقیقت حال کا علم ہو گا تو وہ بھی حضور کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے اور اس ثواب میں ہم سے پیچھے نہیں رہیں گے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ہمیں ایک وقت یہ بھی نظر آتا تھا کہ آپ الگ ایک عرشہ پر بیٹھ گئے اور صحابہ کی درخواست کو آپ نے منظور فرمالیا کے مگر یہ وہ وقت تھا جب مصیبت ابھی کھلے طور پر سامنے نہیں آئی تھی اور صحابہ کے قدم میدان جنگ سے اُکھڑے نہیں تھے بلکہ وہ دلیری کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ یا رسول اللہ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں اور پیچھے بھی لڑیں گے اور ہم ڈھیر ہو جائیں گے مگر دشمن کو آپ متک نہیں پہنچنے دیں گے گئے یہ اس موقع کی بات ہے اور آپ نے صحابہ کی اس تجویز کو قبول کر لیا اور عرشہ پر بیٹھ گئے۔مگر آپ کی زندگی میں ہی پھر ایک دوسرا موقع آیا۔جب بعض ایسے واقعات کی وجہ سے جن کو بیان کرنے کا یہ موقع نہیں صحابہ کے پیراُکھڑ گئے اور اسلامی لشکر منتشر ہو گیا۔چار ہزار دشمن کے مقابلہ میں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بارہ صحابی رہ گئے۔اُس وقت چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہو رہی تھی اور وہاں کھڑے رہنے والوں کے مارے جانے کا سو فیصدی احتمال تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ نمونہ مگر جہاں بدر کے موقع پر صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صفوں کے پیچھے ایک الگ مقام پر بیٹھنے کی درخواست کرتے ہیں اور آپ ان کی بات کو مان لیتے ہیں ، وہاں غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ چاہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس لوٹائیں بلکہ بعض آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں يَا رَسُول اللہ ! یہ آگے بڑھنے کا موقع نہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے ہاتھ کو جھٹک دیتے ہیں اور فرماتے ہیں چھوڑو میرے گھوڑے کی باگ کو اور یہ کہتے ہوئے گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہیں اور فرماتے ہیں۔