خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 465

خطابات شوری جلد دوم ۴۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء کی وصولی میں مہلت نہ دیتے تو انجمن کئی سال پہلے دیوالیہ ہو چکی ہوتی۔پس اس وقت ہم صرف دنیا کے سامنے اپنی براءت اور تکلیف میں کمی کرنا چاہتے ہیں اور کارکنوں کو یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے لئے آرام کی جو صورت سمجھیں اسے اختیار کر لیں۔باقی رہا یہ سوال کہ دس سال کی گارنٹی ہو، تا اس کے بیوی بچوں کو تکلیف نہ ہو، تو یہ تکلیف تو میں سال کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔ہمیں تو معقول درمیانی رستہ اختیار کرنا چاہئے۔پیغامیوں کے ایک اعتراض کا جواب پیغامی ہمیشہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ قادیان والے سب روپیہ کھا جاتے ہیں۔مجھے ایک دوست نے سنایا کہ انہیں پیغامیوں نے بتایا کہ قادیان میں جب منی آرڈر آتے ہیں تو خلیفہ بھی اور دوسرے ارکان بھی مسجد میں جمع ہو جاتے ہیں اور وہیں سب کچھ بانٹ لیتے ہیں۔انہوں نے جب یہاں آ کر دیکھا کہ یہ بات کس قدر دور از حقیقت ہے تو کہا کہ ان لوگوں کے جھوٹا ہونے کی بس یہی کافی دلیل ہے۔اور بھی دوستوں نے اس قسم کے واقعات سنائے ہیں مگر پیغامی اپنے کارکنوں کو صرف تین سال پنشن دیتے ہیں اور ہم جو بقول ان کے روپیہ خود کھا جاتے ہیں اختیار دے رہے ہیں کہ کوئی چاہے تو ساری عمر پیشن لیتا رہے اور چاہے تو پراویڈنٹ فنڈ یکمشت حاصل کرے۔پھر کئی کیس ایسے بھی ہیں کہ ہم بچوں کو پنشن دیتے ہیں مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی صحابی ہے اُس کے بچوں کو اگر دس سال کے بعد بھی ضرورت ہو تو پنشن دی جا سکتی ہے اور ہم دیتے ہیں اور آئندہ بھی جو لوگ مستحق سمجھے جائیں گے ان کو دیں گے۔مگر پنشن کی مد سے نہیں بلکہ دوسری مدات سے مثلاً زکوۃ وغیرہ سے جن پر انجمن کے قواعد حاوی نہیں ہوتے لیکن وہ امداد کی صورت ہے، استحقاق کی نہیں۔پس چاہئے کہ شروع سے ہی ان دونوں حصوں کو الگ الگ رہنے دیا جائے۔اور میرے نزدیک اس وقت بہترین تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ پراویڈنٹ فنڈ اور پنشن دونوں کی اجازت ہو۔اور یہ بھی مجبوراً کر رہے ہیں تا کہ کارکنوں کو کم سے کم تکلیف کا سامنا ہو اور ہماری براءت بھی ہو سکے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بوجھ کو بھی اُٹھانے کے قابل نہیں ہیں، ہم سخت مقروض ہیں۔ہر سال جو نمائندے یہاں آتے ہیں وہ یہ وعدہ کر کے