خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 33

خطابات شوری جلد دوم ۳۳ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء ہیں اور لوگوں کو اپنے پیچھے چلا لیتے ہیں۔یورپ کے لوگ ایک وقت کہتے تھے ہندوستانی وحشی ہیں کیونکہ وہ ننگے رہتے ہیں۔ہندوستانیوں کو ننگے سر یا بغیر گرتے کے دیکھ کر ان پر ہنسی اُڑاتے تھے لیکن اب ان میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو مادر پدر آزاد بن گئے ہیں اور بغیر کسی حجاب کے ننگے پھرتے ہیں اور ان لوگوں پر ہنسی اُڑاتے ہیں جو ان کی طرح ننگے نہیں پھرتے اور دنیا ان سے مرعوب ہو رہی ہے۔ایسے رسالے ہیں جن میں ان کی تنگی تصویر میں ان کے ناموں کے ساتھ شائع ہوتی ہیں اور اس طرح شائع ہوتی ہیں کہ ننگے باپ کے سامنے اُس کی لڑکی اور بیوی ننگی کھڑی ہیں۔وہ کہتے ہیں دوسرے لوگ بزدل ہیں جو کپڑے اُتار کر ننگے نہیں ہو سکتے۔یہ بالکل الٹ ہے یا نہیں؟ دنیا میں کپڑے اُتار کر دوسروں کے سامنے ننگا ہو جانے والے کو بے حیا کہتے ہیں مگر یہ لوگ کپڑے نہ اُتارنے والوں کو بے حیا کہتے ہیں۔ایک لڑکی لکھتی ہے مجھے پہلے پہل کپڑے اُتار کر ننگے ہونے میں بہت تکلیف ہوئی خصوصاً اُس وقت جب کہ میرا باپ ہمارے احاطہ میں داخل ہو ا مگر اب میں سمجھتی ہوں ہم بیوقوف تھے جبکہ کپڑے نہیں اُتار سکتے تھے۔پس جبکہ لوگ نا پاک تعلیم کے لئے اتنی دلیری دکھاتے ہیں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں اتنی بھی کشش نہیں کہ ہم اسے پیش کر کے منواسکیں۔ہماری جماعتوں کا فرض ہے کہ نو جوانوں کی تنظیم کریں اور اُن میں جرات پیدا کر یں تا کہ دلیری سے وہ اسلام کی تعلیم دنیا میں پیش کر سکیں اور کسی سے نہ ڈریں۔(۴) جس وقت آپ مجلس شوریٰ میں بیٹھیں ، اُس وقت جو سکیمیں غور کے لئے پیش ہوتی ہیں اُن پر اُن اصول کو مدنظر رکھ کر غور کریں جو آپ کی ہدایت کے لئے خلافت کی طرف سے جاری ہوتے ہیں اور آپ کے مشورے اس بنیاد پر ہوں کہ جو ہدایت بھی خلیفہ کی طرف سے آئے کامیابی اسی پر عمل کرنے میں ہے۔(۵) مالی لحاظ سے سلسلہ پر جو بوجھ پڑا ہوا ہے اُسے دُور کریں۔بجٹ ہر سال مجلس مشاورت میں پیش ہوتا ہے۔اس پر بڑی بڑی بحثیں ہوتی ہیں پھر وہ باہر جماعتوں کے پاس جاتا ہے اور جماعتوں کی طاقت سے بہت کم ہوتا ہے مگر پھر بھی پورا نہیں کیا جاتا۔