خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 32

خطابات شوری جلد دوم اُٹھاتے۔۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء تعاون کرنے کے لئے ضروری باتیں ہیں میں آپ لوگوں سے یہ چاہتا ہوں باتوں کو مد نظر رکھیں۔کہ مجھ سے تعاون کرنے کے لئے ان (۱) یہ کہ اسلام کی تعلیم ، اسلام کے احکام اور اسلام کی ہدایات کو خود سمجھنے کی کوشش کریں۔اس سلسلہ میں اگر کوئی صاحب میرے خطبات میں سے خلاصہ کے طور پر ہدایات نکال لیں اور پھر انہیں کتابی صورت میں اسباق کے طور پر شائع کر دیں تا کہ لوگ انہیں پڑھ کر فائدہ اٹھا سکیں تو وہ ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔(۲) میں جو باتیں بیان کرتا ہوں ان کو لوگوں میں پھیلائیں اور انہیں تحریک کریں کہ ان کو یاد کر لیں اور ان پر عمل کریں۔(۳) اپنے اندر یہ روح پیدا کریں کہ مغربیت سے ڈرنا نہیں اور خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ اسلام کی کسی تعلیم کے متعلق کسی موقع پر بھی معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔کوئی وجہ نہیں کہ ہم کہیں اسلام میں ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی جو اجازت ہے اس کے متعلق یہ عذرات ہیں۔مغربیت کے مقابلہ میں اسلامی تعلیم کے متعلق معذرت کرنا سخت غداری ہے۔اسلام کی وہ کونسی تعلیم ایسی ہے کہ جس کی صداقت کو ہم ثابت نہیں کر سکتے اور کونسی ایسی تعلیم ہے جس کی صداقت کا ہمارے نفسوں نے مشاہدہ نہیں کیا۔دشمن تو خود ادھر کوٹ کر آ رہا ہے پھر معذرت کرنے کا کونسا موقع اور محل ہے۔جو کچھ اسلام نے کہا ہے وہی سچ ہے آج اگر ہم اسلام کی کسی بات کو نہیں سمجھ سکتے تو اول تو اس کے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم خداتعالی کی طرف سے ہے تو ہمیں یہی کہنا چاہئے کہ اسلام جو کچھ بھی کہتا ہے وہی درست ہے اور اُسی پر عمل کرنا چاہئے اور اس کی حکمت بڑوں سے پوچھنی چاہئے۔پس خصوصیت سے جماعتوں کو چاہئے کہ نوجوانوں کی تنظیم کریں اور ان میں یہ روح پیدا کریں کہ ہر موقع پر وہ اسلام کی تعلیم کو دلیری سے پیش کریں اور کسی بات سے نہ ڈریں۔دیکھو لوگ دنیا میں نہایت غلط بلکہ نہایت شرمناک تعلیمیں لے کر کھڑے ہوتے