خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 463

خطابات شوری جلد دوم ۴۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء اصول پر ہے کہ بعض لوگ جلد فوت ہو جاتے ہیں اور بعض دیر سے۔ اس لئے دونوں کو جو رقم دینی پڑتی ہے اسے ملا کر نقصان قریباً پورا ہو جاتا ہے۔ پراویڈنٹ فنڈ نسبتا سنتا رہتا ہے۔ فرض کرو ایک شخص سو روپیہ ماہوار تنخواہ لیتا ہے۔ اُس کا اگر پراویڈنٹ فنڈ جمع ہوتا رہے تو انجمن کو ایک آنہ فی روپیہ یا چھ روپے چار آنے ماہوار دینے پڑیں گے یعنی ۷۵ روپے سالانہ اور ا اور اگر وہ تمہیں سال بھی ملازمت کرے تو کل رقم اسے اسے ۲۲۵۰ روپے دینی پڑے گی ۔ لیکن اگر اسے پنشن دی جائے تو وہ پچاس روپیہ ماہوار ہو گی گویا سال میں چھ سو روپیہ اور اس طرح چار سال میں ہی وہ پراویڈنٹ فنڈ سے بڑھ جائے گی۔ مگر پنشن کے بعد کوئی شخص چار پانچ سال زندہ رہتا ہے اور کوئی آٹھ ، دس، ہیں سال اور اس طرح اوسط قریباً وہی ہو جاتی ہے اور دوستوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ موجودہ قاعدہ کو بدلنے کے ساتھ ہی ہمارے خزانہ پر ڈ گنا بوجھ ہو جائے گا ۔ یعنی اگر پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں ہم کو دس ہزار روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے تو پنشن کی صورت میں وہ کم سے کم ہیں ہزار ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ اگر یہ تجویز منظور کر لی جائے کہ دونوں فوائد کارکنوں کو حاصل ہوں تو انجمن پر ایسا بوجھ پڑ جائے گا کہ جس کا اُٹھانا اُس کے لئے مشکل ہوگا ۔ انجمن کوئی زندہ وجود تو ہے نہیں کہ وہ اپنی مشکلات کو پیش کر سکے اس لئے اس کا خیال بھی ہمیں ہی رکھنا ہے اور یہ نامناسب ہے کہ اس پر دُہرا بوجھ ڈال دیا جائے۔ منطقی نتیجہ تو وہی صحیح ہے جو میاں عطاء اللہ صاحب نے پیش کیا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے کہ ہم اپنے کارکنوں کو تنخواہیں نہیں بلکہ گزارے دے رہے ہیں تو کسی وقت بھی اس کے نصف ہونے کے معنے ہی کیا ہیں ۔ مگر بعض منطقی نتائج عملاً غلط ہوتے ہیں۔ ایک کروڑ پتی ایک روٹی کھاتا ہے مگر مزدور پانچ کھا جاتا ہے اور اگر دونوں پر ایک ہی منطقی نتیجہ عائد کیا جائے تو مزدور بُھو کا مر جائے گا ۔ پس گو منطقی نتیجہ تو وہی صحیح ہے جو میاں عطاء اللہ صاحب نے پیش کیا ہے مگر موجودہ صورت میں ہم بجٹ کو زیر بار نہیں کر سکتے ۔ اگر وہ بھیا نک نظارے جو قوم کی بدنامی کا موجب ہیں ہمیں نظر آنے لگے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم اپنے بٹوے کا منہ اتنا کھول دیں کہ موجودہ کارکنوں کو بھی گزارے دینے کے قابل نہ رہیں۔ ہاں اگر کسی وقت انجمن کے پاس کافی روپیہ آ جائے تو اس تجویز پر بھی عمل ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ ہی پورا گزارہ ملتا ر ہے۔ چنانچہ تحریک جدید کے سلسلہ میں میری یہی تجویز