خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 462

خطابات شوری جلد دوم ۴۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء نے یہ ترمیم پیش کی ہے کہ یہ جو شرط ہے کہ تمیں روپیہ سے زیادہ تنخواہ والوں کے لئے پنشن رکھی جائے یہ اُڑا دی جائے اور سب کے لئے پنشن کر دی جائے یا جو بھی قانون ہو وہ سب کے لئے کر دیا جائے۔اور پہلے میں اس ترمیم کو لیتا ہوں جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۷۶ احباب کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا۔” جو دوست اس کے خلاف ہوں اور چاہتے ہوں کہ چھوٹی اور بڑی تنخواہ والوں میں کوئی فرق رہنا چاہئیے وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر صرف ۲۶ ا حباب کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا : - میں کثرت رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں۔اب سوال یہ ہے کہ سب کے لئے پنشن ہی رکھی جائے یا اختیار دے دیا جائے کہ جو چاہے پنشن لے لے اور جو چاہے پراویڈنٹ فنڈ ؟ میر محمد اسحق صاحب نے ترمیم پیش کی ہے که پنشن لازمی کر دی جائے لیکن کسی کا رکن کے ریٹائرڈ ہونے پر پراویڈنٹ فنڈ کا حساب ضروری ہو اور پنشن لینے کے بعد اگر کوئی کارکن فوت ہو جائے تو اُس کے ورثاء کو اتنی رقم ضرور دی جائے جتنی کہ وہ پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں حاصل کر سکتا۔یعنی اتنا عرصہ پنشن جاری رہے جب تک کہ اتنی رقم پوری نہ ہو جائے۔اس تجویز کے متعلق کوئی آٹھ دس ترامیم اس وقت میرے سامنے پڑی ہیں اور ظاہر ہے کہ ان سب پر اگر بحث کی جائے تو بجٹ بھی پیش نہیں ہو سکتا اور کل کا دن ان کے لئے بھی کافی نہیں ہو سکے گا۔ہم اس وقت اصلاح اور تغیر کی طرف ایک قدم اُٹھا رہے ہیں۔اگر دوست مزید اصلاح کی ضرورت محسوس کریں تو وہ اس کے لئے تجاویز اگلے سال پیش کر سکتے ہیں آج کی بحث کو ممتد نہیں کیا جا سکتا۔ایک ترمیم کو میر محمد الحق صاحب نے اپنی ترمیم میں شامل کر لیا ہے اور اب ان کی ترمیم یہ ہے کہ کارکن کا جو پراویڈنٹ فنڈ وضع ہوتا ہے وہ برابر ہوتا رہے اور ریٹائر ہونے کے بعد منافع سمیت اُسے واپس مل جائے اور انجمن جو عطیہ دیتی ہے وہ نہ دے بلکہ اس کے عوض پنشن دے اور پنشن کی گارنٹی کم سے کم دس سال ہو۔اگر اس اثناء میں وہ کا رکن فوت بھی ہو جائے تو اُتنا عرصہ اس کے ورثاء کو ضرور پنشن ملتی رہے۔پنشن کی بنیاد دراصل اسی