خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 461
خطابات شوری جلد دوم ۴۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء مولوی محمد اسمعیل صاحب کی قربانی اخبار الفضل میں ایک واقعہ لکھا تھا کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب بعض اوقات نمک سے روٹی کھا لیتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ریٹائر ہونے کے بعد ان کے گزارہ کی کوئی صورت ہی نہ تھی۔جو رقم بطور پراویڈنٹ فنڈ اُن کو دی گئی وہ پہلے سے ہی خرچ ہو چکی ہوئی تھی اور اس لئے قرضوں میں چلی گئی اور اس حالت میں کہ جب وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور مسلول بھی تھے بعض دفعہ ان کو نمک کے ساتھ روٹی کھانی پڑتی تھی اور اس حالت کو جب ان کی علمی قابلیت کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ ہم نے کتنا ظلم کیا ہے۔میں تو پہلے بھی پراویڈنٹ فنڈ کے خلاف باتیں کہتا رہا ہوں مگر ذمہ دار کارکنوں نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی لیکن اب جو ایسے واقعات میرے سامنے آئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک صحابی جسے ذاتی طور پر علم میں ہمہ دانی کا ایسا مقام حاصل تھا جو شاید ہی جماعت میں کسی اور کو حاصل ہو۔جماعت میں جو کوئی شخص کوئی تصنیف کرتا تو ان سے ضرور کسی نہ کسی رنگ میں مدد لیتا تھا۔تو میں نے خیال کیا کہ یہ خطرناک ظلم ہے جو ہم کر رہے ہیں اور اس کے انسداد کی کوئی صورت ہونی چاہئے اس لئے میں نے ایک تجویز یہ پیش کی۔مولوی صاحب کی امداد کی ایک صورت میرے اختیار میں تھی یعنی تحریک جدید کے فنڈ سے۔اور میں نے اس سے ان کے لئے ساٹھ روپیہ ماہوار مقرر کر دیئے اور ان کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ کچھ تو تحریک جدید کے مجاہدین کو پڑھایا کریں اور کچھ ترجمہ قرآن کریم کے کام میں لغت کے حوالے وغیرہ نکالنے میں میری مدد کریں اور اس طرح میں نے اُن کو فاقہ کشی کی موت سے بچانے کی کوشش کی۔اگر یہ صورت میرے ہاتھ میں نہ ہوتی تو اُن کو فاقہ کشی کی موت سے بچانے کی کوئی صورت نہ تھی مگر افسوس کہ وہ اس آمد سے بھی تین چار ماہ سے زیادہ عرصہ تک فائدہ نہ اٹھا سکے۔گویا یہ صورت بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عذاب اور شرمندگی سے بچانے کے لئے پیدا کی تھی ورنہ اگر وہ فاقہ کشی سے فوت ہو جاتے تو جماعت خدا تعالیٰ کے حضور اس کے لئے جواب دہ ہوتی۔پس ایسے واقعات کو دیکھ کر میں نے سمجھا کہ جتنی جلدی ہو سکے جماعت کو اس شرمندگی سے بچانے کی کوشش کی جائے اس لئے میں نے یہ تجویز مشاورت میں پیش کرنے کے لئے بھیج دی۔اس میں میاں غلام محمد صاحب اختر