خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 452

خطابات شوری جلد دوم ۴۵۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء ہوں۔اور اسلام کو چالیس مومنوں کے ذریعہ ایسے تمام ادیان پر غالب کرنا جن کے ماننے والوں کے پاس حکومتیں اور فوجیں ہیں، بے شمار سامان ہیں جو اس وقت علمی ، اقتصادی اور تمدنی لحاظ سے تمام دنیا پر چھائی ہوئی ہیں اس کے صاف معنے ہیں کہ اسلامی فتوحات کا انحصار ظاہری سامانوں پر نہیں۔ظاہری کوشش تو محض علامت کے طور پر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے فرمایا کہ اپنی اُمت کو ختنہ کا حکم دو، یہ میرے اور ان کے درمیان دائمی تعلق کی علامت ہوگی۔اسی طرح ہمارے یہ بجٹ وغیرہ سب علامتیں ہیں۔اصل کام جو ہونا ہے وہ اسی طرح ہوگا کہ بعض اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے قلوب میں سوز وگداز پیدا ہوگا اور وہ اس کے حضور چلائیں گے اور آہ وزاری کریں گے کہ ہمارے دلوں میں دکھ ہے کہ تیرا نام روشن نہیں ہوتا اور تیرے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دُنیا سے مٹ رہا ہے تو اس کیفیت کو دُور کر۔چنانچہ کسی وقت اللہ تعالیٰ ان کی پکار کو سُنے گا اور کہے گا کہ بہت اچھا ہم نے اس کیفیت کو دور کر دیا۔چنانچہ اسلام دُنیا میں پھیلنے لگے گا جیسے رات کے وقت ہر جگہ پہاڑوں پر بھی اور جنگلوں پر بھی ، سمندروں پر بھی ، دریاؤں اور نہروں پر بھی ، غاروں پر بھی ، سایہ دار جگہوں پر بھی اور ایسی جگہوں پر بھی جہاں کوئی سایہ نہیں ہوتا رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہوتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اربوں ارب من ظلمت ہے جس نے ہر جگہ پر قبضہ کیا ہوا ہے مگر جونہی سورج چڑھتا ہے اس تاریکی کا پتہ ہی نہیں ملتا کہ کہاں غائب ہو گئی۔یہی حال اسلامی تعلیمات کا ہوتا ہے۔وہ دُنیا میں ظاہری اسباب سے نہیں پھیلا کرتیں۔رات کو اُس کے ماننے والے اس پریشانی میں سوتے ہیں کہ یہ تعلیم دُنیا میں کب اور کس طرح مقبول ہو گی مگر صبح اُٹھتے ہیں تو نقشہ ہی بدلا ہوا ہوتا ہے۔کچھ عرصہ تک تو لوگ ایک ایک اور دو دو کر کے اس میں شامل ہوتے ہیں مگر جس وقت اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی آہ وزاری حد تک پہنچ جاتی ہے تو وہ اُسے سنتا ہے۔خدا تعالیٰ کا عرش ان کی چیخوں سے کانپنے ہے اور دُنیا میں ان کے غلبہ کے سامان شروع ہو جاتے ہیں۔اُس وقت پھر یہ سوال نہیں رہتا کہ کس کس کو اس دین میں شامل کیا جائے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے کون داخل ہو اور پیچھے کون۔لوگ فوج در فوج داخل ہونے لگتے ہیں اور دُنیا کا نقشہ ایک ہی دن میں بدل جاتا ہے۔سب انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھ لو۔لگتا۔