خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 450
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء انتظام نہیں کرتا میرے لئے ماننا مشکل ہے۔جن علماء نے جب میری سکیم کو قابلِ اعتراض سمجھا تو اُن کو چاہئے تھا کہ خود کوئی ایسی سکیم پیش کرتے جو اعتراضات سے پاک ہوتی۔غرباء کی امداد کا طریق میرے نزدیک تو میری سکیم درست تھی لیکن اس کو قابل اعتراض قرار دینے والے علماء نے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔ان کا کام تھا کہ اقتصادیات کے ماہرین کے مشورہ سے خود کوئی اچھی تجویز پیش کرتے جس سے غرباء کی امداد کی صورت پیدا ہو سکتی مگر افسوس اُنہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ایک چیز ہمارے اختیار میں ہے مگر ہم نے اسے بھی اختیار نہیں کیا اور وہ نیو تہ ( تنبول ) کا طریق ہے۔یہ میرے خیال میں کمیٹی ڈالنے کا بہترین طریق ہے بشرطیکہ لینے اور دینے والے کی حیثیت کا لحاظ رکھا جائے۔اور جبر نہ ہو کہ دوسرا بھی اُتنا ہی دے جتنا کہ اسے دیا گیا تھا۔اگر اپنے اپنے طور پر احمدی اس کا انتظام کر لیں کہ شادی کے موقع پر بطور امداد کچھ نہ کچھ دیا جائے یا جب کوئی فوت ہو جائے تو ہر شخص مدد کرے تو بہت مفید ہوسکتا ہے۔قادیان میں اس کا انتظام بہت عمدہ طریق پر ہو سکتا ہے۔ایسا انتظام سارے گاؤں کا نہ ہو بلکہ محلہ وار ہو اور یہ بہترین طریق ہے۔ہمارے ملک نے ہزاروں سال تک اس طریق پر عمل کیا ہے۔اس میں نقص صرف وہی ہے کہ جبر کیا جاتا ہے کہ دوسرا بھی ضرور اُتنی ہی رقم دے جتنی اُسے دی گئی تھی حالانکہ ممکن ہے پہلے کسی کی حالت اچھی ہومگر بعد میں کمزوری آجائے اور وہ اتنا ہی دینے کے قابل نہ رہ سکے۔بس یہی کافی ہے کہ ہر شخص بطور تحفہ کچھ نہ کچھ دے۔اگر اس طریق کو ضبط میں رکھا جائے تو بہت مفید ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سُنا ہے کہ اس طریق میں کوئی نقص نہیں اگر یہ جبر نہ ہو کہ کوئی شخص ضرور اپنی حیثیت سے بڑھ کر قرضہ اُتارے۔اس کے علاوہ اور تحریکوں پر بھی غور کر لیا جانا چاہئے اور اسلام کی رو سے کوئی نہ کوئی جائز صورت ضرور نکل آئے گی۔اسلام نے سُود سے منع کیا ہے مگر بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے اور ہم اس کے ذریعہ اپنی ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں اس لئے اس مشکل کا بھی کوئی علاج ضرور سوچنا چاہئے اور جب تک یہ نہ ہو نیو تہ کا طریق ہی جاری کرلینا چاہئے۔اس رنگ میں دوست اپنے اپنے ہاں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں اور اس طرح اپنی ضرورتیں پوری کرتے رہیں۔“