خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 31

خطابات شوری جلد دوم ۳۱ Σ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء رہے جو اُن کی طاقت سے بالا ہو۔اور اگر وہ اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کرتے تو اس لئے نہیں کہ کر نہیں سکتے بلکہ اس لئے کہ کرنا نہیں چاہتے۔پھر تم میں سے کثرت سے ایسی مثالیں مل سکتی ہیں کہ عورتوں کو ورثہ نہیں دیتے ، ان کے حقوق نہیں ادا کرتے۔زمیندار لوگ جب تک عورتوں کو حصہ نہ دیں گے وہ لعنت جو ان پر پڑی ہوئی ہے دُور نہ ہو گی۔تم خدا تعالیٰ کا قائم کردہ حق عورتوں کو دو خواہ اُجڑ جاؤ مگر یا درکھو جو خدا تعالیٰ کے کسی حکم پر عمل کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے اُجڑ نے نہیں دیتا۔تمہیں کیا پتہ ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری اولا دوں کو ہوش سنبھالنے تک بادشاہتیں دے دے۔پہلوں کو اس نے دی ہیں اور وہ اب بھی دے سکتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کے لئے اپنے دلوں کو کھول دو اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اگر موت بھی آتی ہے تو اسے آنے دو۔بعض لوگ اپنے بیویوں سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔بعض جن کی ایک بیوی ہے اس سے عمدہ سلوک نہیں کرتے۔بعض کی دو بیویاں ہیں ان میں کئی لوگ ایک بیوی سے اچھا سلوک نہیں کرتے۔میں سمجھتا ہوں کہ بعض حالتوں میں بعض مرد عورتوں سے گزارہ نہیں کر سکتے جس طرح بعض عورتیں بعض مردوں سے نباہ نہیں سکتیں مگر خدا تعالیٰ نے اس کا علاج رکھا ہے۔مرد اگر عورت سے اچھا سلوک نہیں کر سکتا تو اُسے طلاق دے دے اور عورت اگر مرد کے ساتھ نہیں رہ سکتی تو ضلع کرالے اور اگر یہ نہ کرنا چاہے تو اپنا حق بخش دے اور اس کا اعلان کر دے تا کہ اعتراض نہ ہو۔عورتوں سے بدسلوکی کی مثالیں قادیان میں بھی پائی جاتی ہیں اور باہر بھی موجود ہیں۔اگر جماعت میں احساس پایا جائے کہ جو شخص شریعت کے کسی حکم کے خلاف کرتا ہے اُس کے ساتھ حقارت کا سلوک کرنا چاہئے تو ایسے لوگ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں مگر اب تو یہ حالت ہے کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہیں مگر اپنے دوست کو نہیں چھوڑ سکتے۔علی الاعلان شریعت کی بے حُرمتی کرنے والوں سے اگر تعلق نہ رکھیں اور ان پر اخلاقی طور سے دباؤ ڈالیں تو ایسے لوگ بہت جلد اپنی اصلاح کر لیں۔مگر اس میں مجھ سے تعاون نہیں کیا جاتا۔وہ ایسے لوگوں سے خود قطع تعلق کرنے کی بجائے مجھ سے سزا دلاتے ہیں اور پھر اُس کے خیر خواہ بن کر میرے پاس آتے اور اس کی سفارش کرتے ہیں حالانکہ ان کا فرض تھا کہ یہ ذمہ واری مجھ پر آنے ہی نہ دیتے اور اس کا بارخود