خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 436

۴۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء خطابات شوری جلد دوم نبی کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔چھوٹے بڑے کئے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں۔پس یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ دُنیا کی نگاہ میں بڑے ہیں وہ زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔یا جو دُنیا کی نگاہ میں چھوٹے ہیں وہ ہمارے کام نہیں آ سکتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تائید الہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب وقتی ہوئی کہ جا اور فرعون کو تبلیغ کر تو اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور عذر کیا اور کہا کہ میں اچھی طرح بولنا نہیں جانتا، میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ کر دیجئے۔وہ زیادہ عمدگی سے بولنا جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست پر حضرت ہارون علیہ السلام کو اُن کا نائب تو مقرر کر دیا مگر موسیٰ علیہ السلام کو اپنے فرض سے سبکدوش نہیں کیا بلکہ فرمایا تم ہارون کو ساتھ لے کر فرعون کے پاس جاؤ۔چنانچہ وہ فرعون کے پاس گئے مگر جب وہاں پہنچے تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے بھائی کو بولنے دیں، تمام باتیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود کیں اور انہیں ایک موقع پر بھی یہ ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ حضرت ہارون علیہ السلام اُن کی اعانت کریں حالانکہ وہ خود کہہ چکے تھے کہ ہارون مجھ سے زیادہ اچھا بولتا ہے اسے میرے ساتھ کر دیں مگر جب فرعون کے پاس پہنچتے ہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ہارون کو ایک لفظ بھی بولنے نہیں دیتے۔چنانچہ قرآن کریم میں جو گفتگو بیان ہوئی ہے وہ سب وہی ہے جو حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوئی ہارون کا کہیں ذکر بھی نہیں آتا۔حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شروع میں کہتے ہیں کہ اے خدا ہارون کو وزیر بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کیونکہ وہ بولنا جانتے ہیں مگر میں بولنا نہیں جانتا۔اس طرح خدا نے یہ ظاہر کر دیا کہ جس کا انتخاب ہم نے کیا تھا وہی کام کے لئے زیادہ موزوں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بظاہر بولنا نہیں جانتے تھے مگر جب خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کے ساتھ وہ بولے تو انہیں اس بات کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی کہ ہارون ان کی مدد کریں۔تو استانی کوئی چیز نہیں، نہ کسی کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا کوئی چیز ہے۔بڑائی وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور بات وہی ہے جو دل پر اثر کرتی ہے۔ہزاروں لیکچرار دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جن کی زبان نہایت منجھی ہوئی ہوتی ہے مگر جب وہ تقریر کرتے ہیں تو اس کا دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان کے ذریعہ کسی قسم