خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 435
خطابات شوری جلد دوم ۴۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء محبت بھی رکھتا ہے یا نہیں ایک فضول بات ہے۔دین اور تقویٰ کی اہمیت پس میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور متعلقہ کا رکنوں کو بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ میرے اس حصہ تقریر کو بقیہ جماعت تک پہنچا دیں اور پھر متواتر پہنچاتے رہیں کہ مجلس شوری کے نمائندے ایسے ہی منتخب کرنے چاہئیں جن کے اندر تقویٰ وطہارت ہو۔جو لوگ لڑا کے اور فسادی ہوں ، نمازوں کی پابندی کرنے والے نہ ہوں ،جھوٹ بولنے والے ہوں ، معاملات کے اچھے نہ ہوں ، بلا وجہ ناجائز افتراء اور اعتراض کرنے والے ہوں یا منافق اور کمزور ایمان والے ہوں ان کو بطور نمائندہ انتخاب کرنا جماعت کی جڑ پر تبر رکھنا ہے اور ایسے لوگوں کو مجلس کے قریب بھی نہیں آنے دینا چاہئے چاہے وہ کروڑوں روپیہ کے مالک ہوں اور چاہے وہ باتیں کر کے تمام مجلس پر چھا جانے والے ہوں۔ہمارے لئے وہی لوگ مبارک ہیں جن کے اندر دین اور تقویٰ ہے خواہ وہ اچھی طرح بول بھی نہ سکتے ہوں۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن میں دین اور تقویٰ انہیں خواہ وہ کتنے ہی لستان اور لیکچرار ہوں اور خواہ اُن کے گھر سونے اور چاندی سے بھرے ہوئے ہوں ، ہمیں اُن کی ہرگز ضرورت نہیں اور وہ اس مجلس سے جس قدر دُور رہیں اُتنا ہی ہمارے لئے اچھا ہے۔اس کے بعد میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ ایجنڈے میں شائع ہو چکا ہے آج میری اس تقریر کے بعد ایجنڈا پیش ہو گا اور اس کے بعد ممبران سب کمیٹی کا اعلان کیا جائے گا جو اپنے اجلاس منعقد کر کے تفصیلی رپورٹ کریں گی۔اور درحقیقت ہمارا کام اُسی وقت سے شروع ہوتا ہے جب سب کمیٹیوں کے اجلاس کے بعد اُن کی رپورٹیں آجاتی ہیں۔اس سے پہلے ہمارا اتنا ہی کام ہوتا ہے کہ ہم ایجنڈا پیش کر دیں اور پھر سب کمیٹیوں کے ممبران کا اعلان کر دیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے اور جیسا کہ اس تقریر میں بھی میں بیان کر چکا ہوں سب کمیٹی کے ممبران بھی ہمیں ایسے ہی منتخب کرنے چاہئیں جو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کر کے اُس کی برکتیں ہمارے لئے لائیں۔ایسے لوگ منتخب نہیں کرنے چاہئیں جو صرف لستان ہوں اور باتیں کرنی جانتے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ایسے ہی لوگوں سے کام لیا ہے جو دُنیا کی نگاہ میں حقیر اور ذلیل ہوتے ہیں اور درحقیقت ہر