خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 434

خطابات شوری جلد دوم ۴۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء رکھتا ہے، اس لئے اسے نمائندہ بنا کر بھیجنا چاہئے یا فلاں چونکہ بولتا زیادہ ہے اس لئے اسے نمائندہ بنا کر بھیجنا چاہئے۔اگر محض مالی واقفیت کی وجہ سے شوری کی نمائندگی جائز ہو تو پھر تو کوئی ہندو بھی ہمیں نمائندہ بنا لینا چاہئے۔اسی طرح کوئی عیسائی اگر مالی امور کے متعلق واقفیت رکھتا ہو تو اُسے بھی نمائندہ بنا لینا چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ بجٹ سے تعلق رکھنے والی یہ باتیں محض سطحی ہیں اور دوسرا درجہ رکھتی ہیں اگر یہ نہ ہوں تو کوئی نقصان نہیں ہو سکتا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کون سا بجٹ تیار ہوا کرتا تھا۔پھر حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کون سا بجٹ ہوتا تھا۔اسی طرح حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں بجٹ بنتا ہی نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی بجٹ نہیں بنتا تھا، حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جب کام انجمن کے سپرد ہوا تو اُس وقت بجٹ بنے لگا۔لیکن فرض کرو کسی وقت ہم ضرورتا اس مجلس کو اُڑا دیں تو سلسلہ کو اس سے کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ پس بجٹ پر بحث ایک سطحی کام ہے اور اگر ہم اس کام کے لئے ایسے ہی لوگوں کو منتخب کیا کریں جو مالی معاملات کے متعلق اچھی واقفیت رکھتے ہوں یا بڑ بولے اور معترض ہوں اور نمائندوں کے انتخاب میں نیکی اور تقویٰ کو مدنظر نہ رکھا کریں تو یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے چہرہ کی صفائی کے لئے کسی کی روح نکال لی جائے۔اگر روح نہیں ہوگی تو مُردہ کی لاش کو لے کر کسی نے کیا کرنا ہے خواہ اُس کا چہرہ کیسا ہی چمکتا ہو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہمیں ایسے متقی اور نیک لوگ ملیں جو دنیوی علوم سے بھی آگاہ ہوں اور حسابی معاملات میں اچھی دسترس رکھتے ہوں یا اچھے لستان اور لیکچرار ہوں تو بڑی اچھی بات ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ضرور ایسے ہی نمازی کو چنو جو حساب نہ جانتا ہو یا ایسے ہی نیک شخص کا انتخاب کرو جو بولنا نہ جانتا ہو۔اگر دونوں خوبیاں کسی میں پائی جائیں تو اُسی کا انتخاب کرنا زیادہ موزوں ہو گا۔لیکن اگر کسی میں نیکی اور انقاء نہیں بلکہ وہ محض دنیوی علوم کا ماہر ہے تو تم اُس کی بجائے اُس متقی اور پرہیز گار انسان کا انتخاب کرو جو اپنے دل میں دین کا در درکھتا ہو، جو بڑ بولا نہ ہو، جو اپنے آپ کو آگے کرنے کی عادت نہ رکھتا ہو اور بائیں ہمہ بات کو سمجھنے اور مشورہ دینے کی بھی اہلیت رکھتا ہو۔مگر یہ کہ صرف دنیوی علوم وفنون کو مدنظر رکھا جائے اور یہ نہ دیکھا جائے کہ وہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور